السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
418. -- باب: تأخير الظهر في شدة الحر
-- باب: شدید گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے (تاخیر سے پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ أَبْرِدْ" وَقَالَ:" انْتَظِرِ انْتَظِرْ" وَقَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ" قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ ⦗٦٤٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِبْرَادَ كَانَ بَعْدَ التَّأْذِينِ وَأَنَّ الْأَذَانَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ.
(ا) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «أَبْرِدْ أَبْرِدْ» اور «انْتَظِرْ انْتَظِرْ» کے الفاظ کہے، یعنی ”ٹھہر جا“۔ پھر فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے۔ جب موسم زیادہ گرم ہو تو نماز کو مؤخر کر کے پڑھا کرو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اتنی دیر ہوئی کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
(ب) اس روایت میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2062]
(ب) اس روایت میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2062 in Urdu