السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
418. -- باب: تأخير الظهر في شدة الحر
-- باب: شدید گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے (تاخیر سے پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَلِيٌّ ثنا سُفْيَانُ ثنا الزُّهْرِيُّ ⦗٦٤٢⦘ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ: رَبِّ آكُلُ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی کی شدت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو (موخر کرلو) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے پیدا ہوتی ہے اور (جہنم کی) آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے، پس اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں اور جو تم سخت گرمی اور سردی محسوس کرتے ہو یہ اسی وجہ سے ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 512»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2056
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أنبأ الشَّافِعِيُّ ثنا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ حَرِّهَا وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ فَمَنْ زَمْهَرِيرِهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيِّ.
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سفیان نے زہری کے واسطے سے اسی طرح کی روایت بیان کی، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم گرمی کی شدت محسوس کرتے ہو یہ اس (جہنم) کی گرمی سے ہے اور جو تم سخت سردی محسوس کرتے ہو یہ اس کی سردی سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رواه احمد 2/ 394»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2057
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ وَقُتَيْبَةُ أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ" قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا ابو سلمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر لیا کرو (یعنی مؤخر کر لیا کرو) (انہوں نے «عَنِ الصَّلَاةِ» کے الفاظ نقل کیے ہیں جب کہ ابن موہب نے «بِالصَّلَاةِ» کے الفاظ نقل کیے ہیں) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے پیدا ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 402»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2058
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" وَذَكَرَ أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفْسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ⦗٦٤٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ فِي الْقَدِيمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی (زیادہ) ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہے اور (یہ بھی) جہنم نے اپنے رب کے حضور فریاد (التجا) کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر سال میں دو سانس لینے کی اجازت مرحمت فرمائی، ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا گرمیوں میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2058]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما سبق برقم 2055»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2059
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ وَأَبُو مُحَمَّدِ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ قَالَ: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ بَعْضُهَا رِوَايَةٌ بَعْضُهَا إِشَارَةٌ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر (کی نماز) کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو، کیونکہ (یقینا) گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2059]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 513»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2060
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ الظُّهْرَ فَقَالَ:" أَبْرِدْ" ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ:" أَبْرِدْ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَكَذَا قَالَ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ" فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ".
(ا) حضرت ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن وہب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا: ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن سے فرمایا: «أَبْرِدْ» یعنی ”ابھی ٹھہر جاؤ، مؤخر کرو۔“ (کچھ دیر بعد) مؤذن نے پھر اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ۔“ دو مرتبہ یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا حتیٰ کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہوتی ہے، جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔“
(ب) حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مؤذن نے اذان کا ارادہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2060]
(ب) حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مؤذن نے اذان کا ارادہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 514»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2061
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا الْأَسْفَاطِيُّ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: إِنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ" وَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت ابو الولید نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان کہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”ٹھنڈا کرو (یعنی کچھ ٹھہر جاؤ)“۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ غندر نے بھی شعبہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 514»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ أَبْرِدْ" وَقَالَ:" انْتَظِرِ انْتَظِرْ" وَقَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ" قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ ⦗٦٤٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِبْرَادَ كَانَ بَعْدَ التَّأْذِينِ وَأَنَّ الْأَذَانَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ.
(ا) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «أَبْرِدْ أَبْرِدْ» اور «انْتَظِرْ انْتَظِرْ» کے الفاظ کہے، یعنی ”ٹھہر جا“۔ پھر فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے۔ جب موسم زیادہ گرم ہو تو نماز کو مؤخر کر کے پڑھا کرو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اتنی دیر ہوئی کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
(ب) اس روایت میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2062]
(ب) اس روایت میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2063
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ لَفْظًا أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ قَالَ حَمَّادٌ: وَحَدَّثَنِيهِ سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ أَحَدُهُمَا: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَلَكَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ".
حضرت حماد رحمہ اللہ نے سماک بن حرب کے واسطے سے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی، اور حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مجھے سیار بن سلامہ رحمہ اللہ نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے۔ ان میں سے ایک کے الفاظ ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان کہتے تھے جب سورج ڈھل جاتا اور دوسرے کے الفاظ ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان کہتے تھے جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع ہو جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الطيالسي 769»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2064
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ثنا عَبْدُ اللهِ ثنا يُونُسُ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ لَا يَحْذِمُ الْأَذَانَ وَكَانَ رُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا" وَقَدْ مَضَى قَوْلُهُ كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان میں سستی نہیں کرتے تھے (یعنی اول وقت ہی میں اذان دے دیتے تھے)۔ ہاں، اقامت کبھی کبھی دیر سے کہا کرتے تھے اور ایک قول پہلے بھی گزر چکا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف