السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
596. -- باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2899
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَاءَ الْإِمَامِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ جَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَقَدْ رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، عَنْ مَالِكٍ وَذَاكَ مِمَّا لَا يَحِلُّ رِوَايَتُهُ عَلَى طَرِيقِ الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَقَدْ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ⦗٢٢٩⦘ مَذْهَبُ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ تَرْكَ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ دُونَ مَا لَا يَجْهَرُ، فَقَدْ رَوَى يَزِيدٌ الْفَقِيرُ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَكَذَلِكَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَذْهَبَ ابْنِ مَسْعُودٍ.
(ا) وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جس نے ایک بھی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو ایسی نماز صرف امام کے پیچھے ہی پڑھ سکتا ہے وگرنہ نہیں۔
(ب) یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے میں جابر رضی اللہ عنہما کا مذہب جہری نمازوں میں قراءت نہ کرنے کا ہو گا نہ کہ سری نمازوں میں۔ یزید فقیر نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورہ کی قراءت کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ اسی طرح یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب معلوم ہوتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ یحییٰ بن سلام اور دوسرے ضعیف راویوں نے اسے مالک سے مرفوع بیان کیا ہے اور اسے بطور دلیل روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2899]
(ب) یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے میں جابر رضی اللہ عنہما کا مذہب جہری نمازوں میں قراءت نہ کرنے کا ہو گا نہ کہ سری نمازوں میں۔ یزید فقیر نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورہ کی قراءت کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ اسی طرح یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب معلوم ہوتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ یحییٰ بن سلام اور دوسرے ضعیف راویوں نے اسے مالک سے مرفوع بیان کیا ہے اور اسے بطور دلیل روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2899 in Urdu