السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
990. -- باب: ترك الجماعة بعذر الأخبثين إذا أخذاه أو أحدهما حتى يتطهر
-- باب: پیشاب اور پاخانہ یا ان میں سے کسی ایک کی حاجت کے شدید ہونے کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا بیان، یہاں تک کہ انسان طہارت حاصل کر لے۔
حدیث نمبر: 5029
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَمَعَهُ النَّاسُ وَهُوَ يَؤُمُّهُمْ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَقَامَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ: لِيَتَقَدَّمْ أَحَدُكُمْ وَذَهَبَ الْخَلَاءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ الْخَلَاءَ وَقَامَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ. ⦗١٠٣⦘.
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ چند لوگ تھے، وہ ان کی امامت کرواتے تھے۔ ایک دن صبح کی نماز کی اقامت کہہ دی گئی، اچانک انہوں نے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی آگے بڑھے اور خود بیت الخلا چلے گئے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جب تم میں سے کوئی بیت الخلا کا ارادہ کرے اور نماز کھڑی ہو جائے تو وہ بیت الخلا سے ابتدا کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5029]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أبو داؤد 88»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5029 in Urdu