السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6403
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: مَنْ أَرْسَلَكَ؟ قُلْتُ: فُلَانٌ قَالَ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَأْتِيَنِي فَيَسْأَلَنِي؟" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، مُتَذَلِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِلشَّيْخِ: الْخُطْبَةُ قَبْلَ الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ بَعْدَهَا قَالَ: لَا أَدْرِي. فَهَذَا يَدُلُّ ⦗٤٨٥⦘ عَلَى أَنَّ هِشَامًا كَانَ لَا يَحْفَظُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامٍ عَنْ جَدِّهِ مُحَالًا بِهَا عَلَى صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ.
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کہتے ہیں: امیروں میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا تاکہ صلاۃ الاستسقاء کے متعلق ان سے پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تجھے کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: فلاں نے، تو انہوں نے کہا: اسے کس نے روکا ہے کہ وہ میرے پاس آئے اور پوچھے؟ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا اور دو رکعتیں پڑھائیں، جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اسے بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6403]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اسے بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6403]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6403 in Urdu