🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1636. -- باب: الاختيار في صدقة التطوع
-- باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7759
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعَاشِرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ" قَالَتْ: وَكُنْتُ أَعُولُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَيَتَامَى فِي حَجْرِهِ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ، أَيَجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي أَوْ أُوَجِّهُهُ عَنْكُمْ، تَعْنِي الصَّدَقَةَ، فَقَالَ: لَا، بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ فَسَلِيهِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ، فَجَلَسْتُ فَوَجَدْتُ عِنْدَ الْبَابِ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي، وَكَانَتْ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا: سَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: امْرَأَتَانِ تَعُولَانِ أَزْوَاجَهُمَا وَيَتَامَى فِي حُجُورِهِمَا، هَلْ يَجْزِي ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ لَهُ" مَنْ هُمَا" قَالَ: زَيْنَبُ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" أِيُّ الزَّيَانِبِ؟ قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" نَعَمْ، لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ بِطُولِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرنا پڑے۔“ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ مال دار تھی اور کچھ یتیم ان کی گود میں تھے اور عبداللہ تنگ دست تھے تو میں نے عبداللہ سے کہا: ”تم پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا میرا صدقہ آپ کے لیے درست ہے؟ یا انہوں نے کہا: میں تم پر صدقہ کروں؟“ تو عبداللہ نے کہا: ”نہیں بلکہ خود جا کر پوچھو۔“ وہ کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی اور آ کر بیٹھ گئی، میں نے دروازے کے پاس ایک انصاری عورت کو دیکھا۔ اسے بھی وہی ضرورت تھی جو میری ضرورت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر (اللہ کی طرف سے) ہیبت ڈالی گئی تھی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہماری طرف نکلے، ہم نے کہا: ”تم جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، مگر ہمارے بارے میں نہ بتانا۔“ انہوں نے جا کر پوچھا: ”دو عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں سے زیادہ مال دار ہیں اور ان کی گود میں یتیم پرورش پا رہے ہیں، کیا ان کا صدقہ ان پر کفایت کر جائے گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہیں کون؟“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”زینب ہے اور ایک انصاری عورت۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینبیں؟“ انہوں نے کہا: ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ایک انصاری عورت۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ان کے لیے دوگنا اجر ہے، ایک قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7759 in Urdu