مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ .
آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو کرنا
حدیث نمبر: 1297
وَعَنْ أَنَسٍ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ أُصْبُعَيْهِ وَيَقُولُ: صَمْتًا، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہی یہ بات منقول ہے: انہوں نے اپنے کانوں پر انگلیاں رکھ کر یہ ارشاد فرمایا: یہ بہرے ہو جائیں، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: ”آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے کے بعد) تم لوگ وضو کر لو!“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1297]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1297]
الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع
Majma al-Zawa'id Hadith 1297 in Urdu