مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ .
آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو کرنا
حدیث نمبر: 1293
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ لَوْنَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جس چیز کی رنگت کو آگ متغیر کر دے، اُس (کو کھانے) کی وجہ سے تم وضو کر لو!“۔
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1293]
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1293]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن، اس کی سند کے راوی ثقہ
حدیث نمبر: 1294
وَعَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَرَأَيْتُ نَاسًا مُجْتَمِعِينَ وَشَيْخٌ يُحَدِّثُهُمْ. قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَهْلُ بْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الرَّبِيعِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ. وَسُلَيْمَانُ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ. وَالْقَاسِمُ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الرَّبِيعِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ. وَسُلَيْمَانُ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ. وَالْقَاسِمُ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
قاسم، جو سیدنا معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا، تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اکٹھے ہیں اور ایک عمر رسیدہ صاحب انہیں احادیث بیان کر رہے ہیں، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا یہ سیدنا سہل بن حنظلیہ ہیں (قاسم کہتے ہیں:) میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص گوشت کھائے اسے وضو کر لینا چاہیے“۔
یہ روایت امام أحمد نے سلیمان بن ابوربیع کے حوالے سے قاسم ابوعبدالرحمان سے نقل کی ہے، سلیمان نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے اور قاسم نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1294]
یہ روایت امام أحمد نے سلیمان بن ابوربیع کے حوالے سے قاسم ابوعبدالرحمان سے نقل کی ہے، سلیمان نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے اور قاسم نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1294]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1295
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سُلَيْمَانَ: إِنْ ظِئْرَكَ" سَلِيمٌ" لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ وَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ ; لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الَّذِي فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ لَا أَعْرِفُهُ وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ ; لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الَّذِي فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ لَا أَعْرِفُهُ وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.
محمد بن طحلاء بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلیمان سے کہا: آپ کے رضاعی عزیز ”سلیم“ آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو نہیں کرتے ہیں، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مارا اور بولے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں (کہ انہوں نے یہ بات بیان کی تھی:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، کیونکہ
یہ روایت محمد بن طحلاء نے ابوسلمہ سے نقل کی ہے امام أحمد کی سند میں ابوسلیمان نامی جس راوی کا ذکر ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1295]
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، کیونکہ
یہ روایت محمد بن طحلاء نے ابوسلمہ سے نقل کی ہے امام أحمد کی سند میں ابوسلیمان نامی جس راوی کا ذکر ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1295]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1296
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو کر لو!
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1296]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1296]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1297
وَعَنْ أَنَسٍ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ أُصْبُعَيْهِ وَيَقُولُ: صَمْتًا، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہی یہ بات منقول ہے: انہوں نے اپنے کانوں پر انگلیاں رکھ کر یہ ارشاد فرمایا: یہ بہرے ہو جائیں، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: ”آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے کے بعد) تم لوگ وضو کر لو!“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1297]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1297]
الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 1298
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ"، وَقَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ فِي مَسِّ الْفَرْجِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ فِي مَسِّ الْفَرْجِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے اُسے وضو کرنا چاہیے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”تم لوگ آگ پر پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کر لو!“۔
یہ روایت امام بزار نے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، جو شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں ہے، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے، وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1298]
یہ روایت امام بزار نے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، جو شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں ہے، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے، وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1298]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1299
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذٍ: هَلْ كُنْتُمْ تَوَضَّئُونَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا أَكَلَ أَحَدُنَا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ غَسَلَ يَدَيْهِ وَفَاهُ، فَكُنَّا نُعِدُّ هَذَا وُضُوءًا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبدالرحمن بن غنم اشعری بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ لوگ آگ پر پکی ہوئی چیز (کو کھا لینے کے بعد) وضو کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! جب ہم میں سے کوئی ایک، کوئی ایسی چیز کھا لے جو آگ پر پکی ہو، تو وہ اپنا ہاتھ اور منہ دھو لیتا ہے، ہم اسی کو وضو شمار کرتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور یہ حسن بن یحیی خشنی کی نقل کردہ روایت ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1299]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور یہ حسن بن یحیی خشنی کی نقل کردہ روایت ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1299]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1300
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آگ پر پکی ہوئی چیز (کھانے کے بعد) وضو کرنا ہو گا“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1300]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1300]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1301
وَعَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَغَلَتْ بِهِ الْمَرَاجِلُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ فِرَاسٌ الشَّعْبَانِيُّ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ فِرَاسٌ الشَّعْبَانِيُّ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا ابوسعد الخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آگ پر پکی ہوئی چیز، جس کی وجہ سے ہنڈیا میں جوش آیا ہو، اسے کھانے کے بعد وضو کر لو!“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فراس شعبانی ہے اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1301]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فراس شعبانی ہے اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1301]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1302
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَكَلَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ تَوَضَّأَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آگ پر پکی ہوئی کوئی چیز کھا لیتے تھے، تو (اس کے بعد) وضو کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1302]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1302]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔