مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ .
آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو کرنا
حدیث نمبر: 1299
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذٍ: هَلْ كُنْتُمْ تَوَضَّئُونَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا أَكَلَ أَحَدُنَا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ غَسَلَ يَدَيْهِ وَفَاهُ، فَكُنَّا نُعِدُّ هَذَا وُضُوءًا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبدالرحمن بن غنم اشعری بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ لوگ آگ پر پکی ہوئی چیز (کو کھا لینے کے بعد) وضو کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! جب ہم میں سے کوئی ایک، کوئی ایسی چیز کھا لے جو آگ پر پکی ہو، تو وہ اپنا ہاتھ اور منہ دھو لیتا ہے، ہم اسی کو وضو شمار کرتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور یہ حسن بن یحیی خشنی کی نقل کردہ روایت ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1299]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور یہ حسن بن یحیی خشنی کی نقل کردہ روایت ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1299]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 1299 in Urdu