مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15157
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ: لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا وَلَا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ; فَإِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا الْفَاسِقِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَتَلَهُ اللَّهُ؟ فَرَمَاهُ اللَّهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنَيْهِ ; فَطَمَسَ اللَّهُ بَصَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
اہورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں: تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یا ان کے اہل بیت میں سے کسی کو برا نہ کہو کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی تھا، جو بلہجیم میں تھا اس نے کہا: کیا تم لوگوں نے اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے۔ راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی آنکھوں میں دو ستارے (یعنی ان کی روشنی) ماری اور اس شخص کی بینائی ختم ہو گئی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15157]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15157]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2830)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 15157 in Urdu