مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
349. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16172
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبَيْكَنْدِيَّ -: إِنَّمَا نَعُدُّ الشَّرَفَ مَا كَانَ قُبَيْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّصَلَ فِي الْإِسْلَامِ فَبَيَّتَ الْيُمْنُ الَّذِي فِي الصِّفَةِ عِبْدَ الْعِزِّ فِي كِنْدَةِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، وَفَارِسِهَا مِنْ زُبَيْدٍ: عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، وَشَاعِرِهَا: امْرِئِ الْقَيْسِ مِنْ كِنْدَةَ، لَا يُخْتَلَفُ فِي هَذَا.
قُلْتُ: مَا أَدْرِي مَعْنَاهُ.
قُلْتُ: مَا أَدْرِي مَعْنَاهُ.
محمد بن سلام بیکندی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کچھ پہلے سے لے کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس تک جس چیز کو شرف سمجھا جاتا تھا اور یہ چیز اسلام میں بھی شامل ہوئی، وہ یمن کا ایک گھرانہ ہے، جو صفہ میں کندہ میں تھا، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے شہوار زبید سے تعلق رکھتے تھے، عمرو بن معدیکرب ان کا شاعر تھا، امرءالقیس کندہ سے تعلق رکھتا تھا، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) مجھے نہیں پتہ کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 16172]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (652)»
Majma al-Zawa'id Hadith 16172 in Urdu