مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
349. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16174
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ بِالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أُشِيرَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَطْلَقَ وَثَاقَهُ، وَزَوَّجَهُ أُخْتَهُ، فَاخْتَرَطَ سَيْفُهُ وَدَخَلَ سُوقَ الْإِبِلِ، فَجَعَلَ لَا يَرَى جَمَلًا وَلَا نَاقَةً إِلَّا عَرْقَبَهُ، وَصَاحَ النَّاسُ: كَفَرَ الْأَشْعَثُ، فَلَمَّا فَرَغَ طَرَحَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ، وَلَكِنْ زَوَّجَنِي هَذَا الرَّجُلُ أُخْتَهُ، وَلَوْ كُنَّا فِي بِلَادِنَا كَانَتْ لَنَا وَلِيمَةٌ غَيْرُ هَذِهِ، يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، انْحَرُوا وَكُلُوا، وَيَا أَهْلَ الْإِبِلِ، تَعَالَوْا خُذُوا شِرَاءَهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: جب سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا، انہوں نے ان کی بندش کھولی اور اپنی بہن کے ساتھ ان کی شادی کروا دی، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونتی، وہ اونٹوں کے بازار میں داخل ہوئے اور انہیں جو بھی اونٹ اور اونٹنی نظر آئے، وہ اس کے پاؤں کاٹتے گئے، لوگ بلند آواز میں کہنے لگے: سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کفر اختیار کر لیا ہے، جب سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس بات سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اپنی تلوار رکھی اور بولے: اللہ کی قسم! میں نے کفر نہیں کیا ہے، بلکہ ان صاحب نے (یعنی امیرالمؤمنین نے) اپنی بہن کے ساتھ میری شادی کی ہے، اگر ہم اپنے علاقے میں موجود ہوتے تو ہمارا ولیمہ اس سے زیادہ بڑا ہوتا، اے اہل مدینہ! تم ان سب جانوروں کو قربان کر کے ان کا گوشت کھاؤ، اور اے اونٹوں والو! تم آگے آؤ اور اپنا معاوضہ وصول کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف عبدالمؤمن بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 16174]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف عبدالمؤمن بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 16174]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (649)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 16174 in Urdu