مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 44
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا مُنَافِقًا يَصْنَعُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" أُولَئِكَ نُهِيتُ عَنْهُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور بولا: میرا پڑوسی ایک منافق شخص ہے، وہ اس، اس طرح کے کام کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ لا الہ الاللہ پڑھتا ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (یعنی کلمہ گو) لوگوں (کو قتل کرنے) سے مجھے منع کیا گیا ہے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ”مستور“ راوی ہیں، اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 44]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ”مستور“ راوی ہیں، اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 3345»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 44 in Urdu