مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 45
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟". قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ. قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَعَادَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَعَادَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عبیدالله بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انہیں یہ بات بتائی: کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک محفل میں تشریف فرما تھے، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرگوشی میں بات کرتے ہوئے، آپ سے ایک منافق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں دریافت کیا: کیا وہ شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے؟ اس انصاری نے جواب دیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا؟ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے رسول ہیں، اس شخص نے جواب دیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! لیکن اُس کی نماز کی کوئی حیثیت نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ (یعنی کلمہ گو) لوگ ہیں، جن (کو قتل کرنے) سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، انہوں نے یہی روایت دوبارہ، عبیداللہ بن عدی بن خیار کے حوالے سے، عبداللہ بن عدی انصاری سے نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عدی نے انہیں یہ حدیث بیان کی اور پھر انہوں نے اسی مضمون کی حدیث ذکر کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 45]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، انہوں نے یہی روایت دوبارہ، عبیداللہ بن عدی بن خیار کے حوالے سے، عبداللہ بن عدی انصاری سے نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عدی نے انہیں یہ حدیث بیان کی اور پھر انہوں نے اسی مضمون کی حدیث ذکر کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 50»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
Majma al-Zawa'id Hadith 45 in Urdu