🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 60
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ - رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ - قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللَّهُ سَرِيَّتَهُ، وَبِالْفَتْحِ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ لَهُمْ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللَّهُ - تَعَالَى - إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ، فَوَاقَعْتُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَهُوَ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ:" فَقَتَلْتَهُ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ. قَالَ:" فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ" قَالَ: لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي؟ هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ؟ قَالَ:" لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ، وَلَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ!" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ:" لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ" فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزُوا لِمَا لَقِيَ، فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا.
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق بجیلہ قبیلے سے ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب ایک جنگی مہم کی طرف سے خوش خبری سنانے والا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ اطلاع دی: کہ اللہ تعالی نے اس جنگی مہم کی مدد کرتے ہوئے انہیں کامیابی عطا کی ہے اور انہیں فتح نصیب کر دی ہے، اس شخص نے یہ بھی بتایا: یا رسول اللہ! جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا اور ہم ان کا تعاقب کر رہے تھے، اس دوران میں تلوار لے کر ایک شخص کے پاس پہنچا، میں اس پر حملہ کرنے لگا، تو وہ دوڑ پڑا اور بولا: میں مسلمان ہوں، میں مسلمان ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ بچنا چاہ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا دل کیوں نہیں چیر دیا؟ تاکہ تم یہ دیکھ لیتے کہ کیا وہ سچا ہے، یا جھوٹا ہے؟ اس شخص نے عرض کی: اگر میں اس کا دل چیر بھی لیتا، تو بھی مجھے یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا، کیونکہ اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کے دل میں جو تھا، نہ تو تم اس کے بارے میں جان سکتے تھے، اور نہ ہی تم نے اُس کی زبان کی تصدیق کی، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ شخص مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا، تو اگلے دن اس کی لاش (قبر سے باہر) زمین پر پڑی ہوئی تھی، لوگوں نے اسے دوبارہ دفن کیا، (تو اگلے دن) اس کی لاش پھر زمین پر پڑی ہوئی تھی، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی، تو اس شخص کے معاملے کے حوالے سے انہیں حیا محسوس ہوئی اور شرمندگی محسوس ہوئی، تو لوگوں نے اس کی لاش اُٹھا کر ایک گڑھے میں ڈال دی۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے، اس کی سند میں دو راوی، عبدالحمید بن بہرام اور شہر بن حوشب ہیں، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 1519 اورده المؤلف فى المقصد العلى 1843»

الحكم على الحديث: إسناده حسن

Majma al-Zawa'id Hadith 60 in Urdu