مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 61
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ" أَوْ كَمَا قَالَ.
قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ، وَهَذَا لَفْظُهُ. وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ، وَهَذَا لَفْظُهُ. وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یعنی مذکورہ بالا روایت میں یہ الفاظ ہیں:) ”میں لوگوں کے ساتھ صرف اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے دعائے مغفرت نہیں کروں گا“ (راوی بیان کرتے ہیں:) یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے، جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے، اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 61]
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے، جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے، اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 243/18»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 61 in Urdu