🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
22. بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ .
نکاح متعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7384
وَعَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ، ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُتْعَةِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ - أَوْ قَالَ: فِي أَعْلَى مَكَّةَ - فَلَقِيَتْنَا فَتَاةٌ كَأَنَّهَا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ قَالَ: فَأَنَا قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ [ غَضٌّ ] وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ. قَالَ: فَقُلْنَا لَهَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَتْ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدُ ابْنِ عَمِّي خَلَقٌ مَحٌّ. قَالَتْ: بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ: فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ عَلَى الْعَكْسِ مِنْ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے، ہم نے (مکہ میں) پندرہ سے لے کر تیس کے درمیان دنوں کا قیام کیا، اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کرنے کی اجازت دے دی، راوی کہتے ہیں: میں اور میرا چچازاد مکہ کے زیریں علاقے میں (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) بالائی علاقے میں نکلے، ہماری ملاقات ایک نوجوان خاتون سے ہوئی، جس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے لگ رہا تھا، اور وہ لمبی گردن کی مالک جوان عورت تھی، میں کچھ بدصورت تھا، میرے جسم پر عمدہ لباس تھا اور میرے چازاد کی چادر پرانی تھی، ہم نے اس سے کہا: کیا ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کر سکتا ہے؟ اس نے دریافت کیا: کیا یہ درست ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! اس نے میرے چچازاد کی طرف دیکھنا شروع کیا، میں نے اس سے کہا: میری یہ چادر نئی اور عمدہ ہے اور میرے چچازاد کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے، اس نے کہا: تمہارے چچازاد کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، پھر اس چچازاد نے اس عورت کے ساتھ متعہ کر لیا، پھر ہمارے مکہ سے نکلنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دے دیا۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں اس کے برعکس منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7384]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (15346)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح

Majma al-Zawa'id Hadith 7384 in Urdu