مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ .
احرام والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 7410
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ) فَهُوَ لَا حَرَجَ عَلَيْكُمْ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ قَبْلَ الْإِحْرَامِ وَبَعْدَهُ فَأَمَّا الْإِحْرَامُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَتَزَوَّجَ أَوْ يُزَوَّجَ أَوْ يَنْحَرَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ إِحْرَامِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْنَهُمَا مُجَاهِدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْنَهُمَا مُجَاهِدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو“ یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ اگر تم خرید و فروخت احرام سے پہلے کرتے ہو یا اس کے بعد کرتے ہو، جہاں تک احرام کا تعلق ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی (احرام کے دوران) شادی کرے، یا شادی کروائے یا قربانی کرے، جب تک وہ احرام سے فارغ نہیں ہو جاتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے، ان دونوں کے درمیان ایک راوی مجاہد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7410]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے، ان دونوں کے درمیان ایک راوی مجاہد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7410]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13022)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
Majma al-Zawa'id Hadith 7410 in Urdu