🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

25. بَابُ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ .
احرام والے شخص کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7405
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں شادی بھی کی تھی، اور احرام کی حالت میں پچھنے بھی لگوائے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7405]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1443)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7406
وَرَوَى لَهَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ.
وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
امام طبرانی نے معجم اوسط میں، اُن کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جب شادی کی تھی، آپ اس وقت حالت احرام میں تھے۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7406]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7407
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيْمُونَةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، تو (اس وقت) آپ احرام کی حالت میں تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7407]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7408
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُمَا حَرَامَانِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا إِحْرَامَ مَيْمُونَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، تو وہ دونوں اس وقت احرام کی حالت میں تھے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت صحیح میں بھی مذکور ہے، تا ہم اس میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے احرام میں ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7408]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11919)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7409
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ، وَهُوَ حَلَالٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی، تو آپ اس وقت احرام کی حالت میں نہیں تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مخلد واسطی ہے، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7409]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7410
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ) فَهُوَ لَا حَرَجَ عَلَيْكُمْ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ قَبْلَ الْإِحْرَامِ وَبَعْدَهُ فَأَمَّا الْإِحْرَامُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَتَزَوَّجَ أَوْ يُزَوَّجَ أَوْ يَنْحَرَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ إِحْرَامِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْنَهُمَا مُجَاهِدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ اگر تم خرید و فروخت احرام سے پہلے کرتے ہو یا اس کے بعد کرتے ہو، جہاں تک احرام کا تعلق ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی (احرام کے دوران) شادی کرے، یا شادی کروائے یا قربانی کرے، جب تک وہ احرام سے فارغ نہیں ہو جاتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے، ان دونوں کے درمیان ایک راوی مجاہد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7410]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13022)»

الحكم على الحديث: إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7411
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَوْ يَحُجَّ. فَقَالَ: لَا تَزَوَّجْهَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا، جس کے ساتھ کوئی شادی کرنا چاہتا ہے، اور وہ شخص مکہ سے باہر ہوتا ہے اور اس کا عمرہ یا حج کرنے کا ارادہ بھی ہوتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم اس عورت کے ساتھ احترام کی حالت میں شادی نہیں کرو گے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7411]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (5958)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7412
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يَنْكِحُ الْمَحْرِمُ، وَلَا يَخْطُبُ، وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ، فَإِنْ كَانَ أَحْمَدَ بْنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَطِيَّةَ فَهُوَ ثِقَةٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِمْ أَحَدٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: احرام والا شخص نہ نکاح کرے گا، نہ نکاح کا پیغام دے گا، اور نہ اُسے نکاح کا پیغام دیا جائے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں أحمد بن قاسم کے حوالے سے نقل کی ہے، اگر تو یہ أحمد بن قاسم بن عطیہ ہے، تو پھر یہ ثقہ ہے اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7412]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7413
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكَحُ، وَلَا يَخْطُبُ، وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرِهِ خَلَا قَوْلَهُ:" وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ مَوْقُوفًا عَلَى أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا يُخْطَبُ عَلَى نَفْسِهِ، وَلَا مَنْ سِوَاهُ". وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: احرام والا شخص نکاح نہیں کرے گا، اس کا نکاح نہیں کروایا جائے گا، وہ نکاح کا پیغام نہیں دے گا، اور اسے نکاح کا پیغام نہیں دیا جائے گا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: نکاح کا پیغام نہیں دیا جائے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ ابان بن عثمان پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اسے اس کی اپنی ذات یا اس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے شادی کا پیغام نہیں دیا جائے گا
امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں، اور امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7413]

الحكم على الحديث: إسناده موقوف صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7414
وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: أَتَيْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ وَهِيَ امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ فَقُلْتُ لَهَا: أَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَقَدْ تَزَوَّجَهَا وَهُمَا حَلَالَانِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: میں سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں، میں نے ان سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تھی، تو وہ دونوں احرام کے بغیر تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7414]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (324/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں