مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ الصَّدَاقِ .
مہر کا بیان
حدیث نمبر: 7495
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ شَيْءٍ، فَكَيْفَ؟!، ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قُلْتُ: لَا. قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟" قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: فَأَعْطِهَا، قَالَ: فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دینا چاہا۔ تو میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں، پھر میں کیا کروں؟ پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی یاد آئی، تو میں نے آپ کو شادی کا پیغام دے دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟ جو میں نے تمہیں فلاں موقع پر دی تھی، انہوں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ اسے دے دو! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو (زرہ) میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7495]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7495]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (603)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7495 in Urdu