🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. بَابُ: جَهْدِ الْمُقِلِّ
باب: کم مال والے کا اپنی محنت کی کمائی سے صدقہ کرنے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ"، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ"، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جُهْدُ الْمُقِلِّ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کر دیا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2527]
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ رہے، اور ایسا جہاد جس میں کوئی خیانت نہ کی جائے اور نیکی والا صاف ستھرا حج۔ پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی (نفل نماز)۔ پوچھا گیا: صدقہ کون سا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والے کا مشقت سے کمایا ہوا مال۔ پوچھا گیا: ہجرت کون سی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ عرض کیا گیا: جہاد کون سا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جس نے اپنے جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا۔ عرض کیا گیا: کون سا قتل (مارا جانا) زیادہ شرف والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی شہادت جس کا اپنا خون بھی بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا بھی مار دیا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 314 (1325)، 347 (1449)، مسند احمد 3/412، سنن الدارمی/الصلاة 135 (1431)، ویأتی عند المؤلف برقم4989 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ"، قَالُوا: وَكَيْفَ؟ قَالَ:" كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِهِمَا، وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا، لوگوں نے (حیرت سے) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت (کے انبار کے) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس (ڈھیر) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2528]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کبھی) ایک درہم (کا ثواب) لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کے پاس کل دو درہم ہوں، اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنے مال کے ایک کونے میں گیا، اس میں سے ایک لاکھ درہم اٹھایا اور صدقہ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13057)، مسند احمد (2/379) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ثواب میں دینے والے کی حالت کا لحاظ کیا جاتا ہے نہ کہ دیئے گئے مال کا، اللہ کے نزدیک قدر و قیمت کے اعتبار ایک لاکھ درہم اس غریب کے ایک درہم کے برابر نہیں ہے جس کے پاس صرف دو ہی درہم تھے، اور ان دو میں سے بھی ایک اس نے اللہ کی راہ میں دے دیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن عجلان عنعن انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2529
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ؟ قَالَ:" رَجُلٌ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَرَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عُرْضِ مَالِهِ مِائَةَ أَلْفٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کر دیا۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے، اس نے اپنے مال (خزانے) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے، اور انہیں صدقہ میں دیدے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2529]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کبھی) ایک درہم (کا ثواب) لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک آدمی کے پاس کل دو درہم ہوں، اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دیا۔ اور دوسرا شخص اپنے مال کے ایک کونے میں گیا۔ اس میں سے ایک لاکھ درہم اٹھایا اور صدقہ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12328) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن عجلان عنعن،وانظر الحديث السابق (2528) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2530
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ، فَمَا يَجِدُ أَحَدُنَا شَيْئًا يَتَصَدَّقُ بِهِ حَتَّى يَنْطَلِقَ إِلَى السُّوقِ، فَيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَجِيءَ بِالْمُدِّ، فَيُعْطِيَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ الْيَوْمَ رَجُلًا لَهُ مِائَةُ أَلْفٍ، مَا كَانَ لَهُ يَوْمَئِذٍ دِرْهَمٌ".
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتا۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2530]
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ کوئی چیز نہ پاتے تھے کہ صدقہ کریں تو وہ بازار جاتے اور اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھاتے (بار برداری کا کام کرتے) اور ایک «مُدّ» لے کر آتے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتے، لیکن آج میں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جن کے پاس لاکھوں درہم ہیں مگر ان دنوں ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 10 (1415)، الإجارة 13 (2273)، تفسیر التوبة 11 (4669)، صحیح مسلم/الزکاة 21 (1018)، سنن ابن ماجہ/الزھد 12 (4155)، (تحفة الأشراف: 9991)، مسند احمد (5/273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2531
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا، وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَاءً"، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79.
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا تو ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ دیا، اور ایک اور شخص اس سے زیادہ لے کر آیا، تو منافقین اس (پہلے شخص) کے صدقہ کے بارے میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ایسے صدقے سے بے نیاز ہے، اور اس دوسرے نے محض دکھاوے کے لیے دیا ہے، تو (اس موقع پر) آیت کریمہ: «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم‏» جو لوگ دل کھول کر خیرات کرنے والے مومنین پر اور ان لوگوں پر جو صرف اپنی محنت و مزدوری سے حاصل کر کے صدقہ دیتے ہیں طعن زنی کرتے ہیں (التوبہ: ۷۹) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2531]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ نے نصف صاع صدقہ کیا۔ ایک اور صحابی اس سے بہت زیادہ مال لے کر آئے۔ منافقین کہنے لگے: اللہ تعالیٰ اس شخص (حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ) کے اس قلیل صدقے سے بے نیاز ہے اور اس دوسرے شخص نے صرف ریاکاری کے لیے صدقہ کیا ہے۔ تو یہ آیت اتری: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 79] منافق لوگ خوشی سے کثیر صدقہ کرنے والے ایمان والوں کو بھی عیب لگاتے ہیں اور ان غریب مسلمانوں کو بھی جن کے پاس مشقت سے کمایا ہوا تھوڑا سا مال ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں