🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب : جهد المقل
باب: کم مال والے کا اپنی محنت کی کمائی سے صدقہ کرنے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ"، قَالُوا: وَكَيْفَ؟ قَالَ:" كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِهِمَا، وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا، لوگوں نے (حیرت سے) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت (کے انبار کے) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس (ڈھیر) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2528]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کبھی) ایک درہم (کا ثواب) لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کے پاس کل دو درہم ہوں، اس نے ان میں سے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنے مال کے ایک کونے میں گیا، اس میں سے ایک لاکھ درہم اٹھایا اور صدقہ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13057)، مسند احمد (2/379) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ثواب میں دینے والے کی حالت کا لحاظ کیا جاتا ہے نہ کہ دیئے گئے مال کا، اللہ کے نزدیک قدر و قیمت کے اعتبار ایک لاکھ درہم اس غریب کے ایک درہم کے برابر نہیں ہے جس کے پاس صرف دو ہی درہم تھے، اور ان دو میں سے بھی ایک اس نے اللہ کی راہ میں دے دیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن عجلان عنعن انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥القعقاع بن حكيم الكناني
Newالقعقاع بن حكيم الكناني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← القعقاع بن حكيم الكناني
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2528 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2528
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت اور اگلی روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے حسن قرار دیا ہے، بعض نے صحیح اور بعض نے اسنادہ قوی کا حکم لگایا ہے، نیز انھوں نے ان احادیث پر تحقیقی بحث کرتے ہوئے ان کے شواہد اور متابعات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 22/ 349- 351، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 14/ 498، وصحیح سنن النسائي للألباني: 2/ 203، رقم: 2526، 2527) علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ گنتی کو نہیں دیکھتا بلکہ خرچ کرنے والے کے جذبے اور اس کے دل کی حالت کو دیکھتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ﴾ (الحج: 37) اللہ تعالیٰ کے پاس قربانی کے گوشت اور ان (قربانی والے جانوروں) کے خون نہیں پہنچتے، بلکہ اس کے پاس تمہارا تقویٰ اور خلوص پہنچتا ہے۔ یاد رہے اجر بھی اسی چیز کا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2528]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2528 in Urdu