🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

82. بَابُ: الصَّدَقَةِ عَلَى الأَقَارِبِ
باب: رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2583
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
سلمان بن عامر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مسکین کو صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے، اور صلہ رحمی بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2583]
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے جبکہ قرابت دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصیام 21 (2355)، سنن الترمذی/الزکاة 26 (658)، الصوم 10 (695)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، الزکاة 28 (1844)، (تحفة الأشراف: 4486)، مسند احمد 4/18، 214، سنن الدارمی/الزکاة38 (1721) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2584
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ:" تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، قَالَتْ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقَالَتْ لَهُ: أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلِي عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ هُمَا؟" , قَالَ: زَيْنَبُ , قَالَ:" أَيُّ الزَّيَانِبِ؟" , قَالَ:" زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ , قَالَ:" نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بیوی زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: تم صدقہ دو اگرچہ اپنے زیوروں ہی سے سہی، وہ کہتی ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (میرے شوہر) تنگ دست و مفلس تھے، تو میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے لیے یہ گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دیا کروں؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ انصار کی ایک عورت اسے بھی زینب ہی کہا جاتا تھا آپ کے دروازے پر کھڑی ہے، وہ بھی اسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی جس کے بارے میں میں پوچھنا چاہتی تھی۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ اندر سے نکل کر ہماری طرف آئے، تو ہم نے ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھیں، اور آپ کو یہ نہ بتائیں کہ ہم کون ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے (اور آپ سے پوچھا) آپ نے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: زینب، آپ نے فرمایا: کون سی زینب؟ انہوں نے کہا: ایک زینب تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، اور ایک زینب انصار میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں (درست ہے) انہیں دوہرا ثواب ملے گا ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2584]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا جو کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) عورتوں سے فرمایا: صدقہ کرو چاہے زیورات ہی سے ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تقریباً خالی ہاتھ تھے۔ ان کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا ان سے کہنے لگیں: کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے بھائی کے یتیم بچوں کو دے دوں؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو۔ وہ کہتی ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئی تو آپ کے دروازے پر ایک انصاری عورت کھڑی تھی۔ اس کا نام بھی زینب تھا۔ اس کا مطلوب بھی وہی تھا جو میرا تھا۔ اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نکلے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور آپ سے یہ مسئلہ پوچھیں لیکن آپ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے (اور پوچھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کون عورتیں ہیں؟ انہوں نے کہا: زینب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون سی زینب؟ انہوں نے عرض کیا: ایک زینب تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اور دوسری زینب انصاری عورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! انھیں دو اجر ملیں گے: قرابت (صلہ رحمی) کا اجر اور صدقے کا اجر۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 48 (1466)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1000)، سنن الترمذی/الزکاة 12 (635، 636)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 24 (1834)، (تحفة الأشراف: 15887)، مسند احمد (3/502، و6/363)، سنن الدارمی/الزکاة23 (1661) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں