🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ: تَخْمِيرِ الْمُحْرِمِ وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ
باب: محرم کے سر اور چہرہ ڈھانپنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی (احرام کی حالت میں) اپنی سواری سے گر پڑا، اس (سواری) نے اسے فوراً مار ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے (احرام والے) دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، سر اور چہرہ ننگا رہے کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 20 (1267)، الصید 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084م)، (تحفة الأشراف: 5453)، مسند احمد (1/215، 286، 328، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2856، 2857، 2860) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2715
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثِيَابِهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2715]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک (محرم) آدمی فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے (احرام کے) کپڑوں میں اسے کفنا دو اور اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپو، یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں