سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ: إِفْرَادِ الْحَجِّ
باب: حج افراد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2716
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2716]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج17 (1211)، سنن ابی داود/الحج23 (1777)، سنن الترمذی/الحج10 (820)، سنن ابن ماجہ/الحج27 (2964)، (تحفة الأشراف: 17517)، موطا امام مالک/الحج 11 (37) حم6/243، سنن الدارمی/المناسک 16 (1853) (صحیح الإسناد، شاذ)»
وضاحت: ۱؎: حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قران اور تمتع، حج افراد: یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور ساتھ میں ہدی کا جانور بھی لے اور حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمر ے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ سے نئے سرے سے حج کا احرام باندھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2717
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے لبیک پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2717]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کی «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1562)، المغازی 77 (4408)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1779)، سنن ابن ماجہ/الحج 37 (2965)، (تحفة الأشراف: 16389)، موطا امام مالک/الحج 11 (36)، مسند احمد (6/36، 104، 107، 243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2718
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (چند دنوں کے بعد) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2718]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے سے چند دن قبل (حج کو) نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص صرف حج کا احرام باندھنا چاہے، وہ حج کا احرام باندھے اور جو عمرے کا احرام باندھنا چاہے، وہ عمرے کا احرام باندھے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج23 (1778)، (تحفة الأشراف: 16863)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض17 (317)، والعمرة 5 (1783)، 7 (1786)، صحیح مسلم/الحج17 (1211)، موطا امام مالک/ الحج 11 (36)، مسند احمد (6/191) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ سے یہ روانگی ذی قعدہ کی پچیسویں تاریخ کو ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2719
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2719]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہمارا ارادہ یہی تھا کہ یہ صرف حج ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1561)، 35 (1562)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/المناسک 23 (1783) مطولا، (تحفة الأشراف: 15957، 15984) ویأتي عند المؤلف برقم: 2805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه