صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ مَنْ لَمْ يَدْخُلِ الْكَعْبَةَ:
باب: جو کعبہ میں داخل نہ ہو۔
حدیث نمبر: Q1600
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَحُجُّ كَثِيرًا , وَلَا يَدْخُلُ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اکثر حج کرتے مگر کعبہ کے اندر نہیں جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: Q1600]
حدیث نمبر: 1600
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قال:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بالبيت، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ؟ , قَالَ: لَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ”نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1600]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عمرہ کیا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں۔ آپ کے ساتھ ایک ایسا شخص بھی تھا جو دوسرے لوگوں سے آپ کو اوٹ میں رکھتا تھا۔ ایک دوسرے آدمی نے اس سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ اس نے کہا: نہیں، یعنی آپ داخل نہیں ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة