🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

126. بَابُ: دُخُولِ الْبَيْتِ
باب: کعبہ کے اندر داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَاب، فَمَكَثُوا فِيهَا مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَاب، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبْتُ الدَّرَجَةَ، وَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ:" أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: هَا هُنَا وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى فِي الْبَيْتِ؟".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اندر داخل ہو چکے تھے، اور (ان کے اندر جاتے ہی) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (اور آپ کے نکلتے ہی) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2908]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کعبہ مشرفہ کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیت اللہ کے اندر تشریف لے جا چکے تھے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ (کعبے کے حاجب) نے (داخل ہو کر) دروازہ بند کر دیا تھا۔ وہ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر (عثمان بن طلحہ حاجب نے) دروازہ کھولا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ میں سیڑھی پر چڑھ کر بیت اللہ میں داخل ہو گیا اور میں نے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: یہاں، البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2909
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَبِلَالٌ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَاب:، فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ بِلَالًا، قُلْتُ:" أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2909]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما، عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں ٹھہرے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر باہر تشریف لائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے فرمایا: (اگلی صف کے بائیں جانب والے) دو ستونوں کے درمیان۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں