یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. باب : دخول البيت
باب: کعبہ کے اندر داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَاب، فَمَكَثُوا فِيهَا مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَاب، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبْتُ الدَّرَجَةَ، وَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ:" أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: هَا هُنَا وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى فِي الْبَيْتِ؟".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اندر داخل ہو چکے تھے، اور (ان کے اندر جاتے ہی) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (اور آپ کے نکلتے ہی) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2908]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کعبہ مشرفہ کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیت اللہ کے اندر تشریف لے جا چکے تھے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ (کعبے کے حاجب) نے (داخل ہو کر) دروازہ بند کر دیا تھا۔ وہ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر (عثمان بن طلحہ حاجب نے) دروازہ کھولا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ میں سیڑھی پر چڑھ کر بیت اللہ میں داخل ہو گیا اور میں نے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: یہاں، البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2908 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2908
اردو حاشہ:
(1) یہ فتح مکہ کی بات ہے۔ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیت اللہ کے چابی بردار تھے، اس لیے انھیں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے گئے تاکہ لوگوں کو پتا چل جائے کہ آپ نے انھیں معزول نہیں فرمایا۔ اسامہ بن زید اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے خادم تھے۔
(2) ”یہاں“ آئندہ حدیث میں وضاحت ہے کہ اگلی صف کے ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ دائیں طرف دو ستون تھے اور بائیں طرف ایک اور پیچھے تین ستون تھے۔ اس وقت کعبے کی چھت چھ ستونوں پر قائم تھی۔ آج کل ستون نہیں ہیں،البتہ آپ کی نماز والی جگہ نشان زدہ ہے جو دروازے کے عین سامنے ہے۔
(3) ”بھول گیا“ حالانکہ آئندہ روایت میں تعداد کا بھی ذکر ہے۔ شاید ابن عمر رضی اللہ عنہ بعد میں بھول گئے ہوں یا پہلے بھول گئے ہوں اور بعد میں یاد آیا ہو۔ واللہ أعلم
(1) یہ فتح مکہ کی بات ہے۔ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیت اللہ کے چابی بردار تھے، اس لیے انھیں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے گئے تاکہ لوگوں کو پتا چل جائے کہ آپ نے انھیں معزول نہیں فرمایا۔ اسامہ بن زید اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے خادم تھے۔
(2) ”یہاں“ آئندہ حدیث میں وضاحت ہے کہ اگلی صف کے ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ دائیں طرف دو ستون تھے اور بائیں طرف ایک اور پیچھے تین ستون تھے۔ اس وقت کعبے کی چھت چھ ستونوں پر قائم تھی۔ آج کل ستون نہیں ہیں،البتہ آپ کی نماز والی جگہ نشان زدہ ہے جو دروازے کے عین سامنے ہے۔
(3) ”بھول گیا“ حالانکہ آئندہ روایت میں تعداد کا بھی ذکر ہے۔ شاید ابن عمر رضی اللہ عنہ بعد میں بھول گئے ہوں یا پہلے بھول گئے ہوں اور بعد میں یاد آیا ہو۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2908]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2908 in Urdu
أسامة بن زيد الكلبي ← عثمان بن طلحة القرشي