🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

227. بَابُ: عَدَدِ الْحَصَى الَّتِي يُرْمَى بِهَا الْجِمَارُ
باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریوں کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3078
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ".
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر (قربان گاہ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3078]
امام محمد باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ میں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرے کو جو درخت کے پاس ہے، سات کنکریاں ماریں۔ آپ ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے۔ کنکریاں خذف کی کنکریوں جیسی تھیں اور آپ نے یہ رمی وادی کے پیٹ سے کی تھی، پھر آپ قربان گاہ کی طرف گئے اور قربانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3056 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3079
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ، قَالَ سَعْدٌ:" رَجَعْنَا فِي الْحَجَّةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضُنَا يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَبَعْضُنَا يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ، فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ".
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3079]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو ہم میں سے کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ہم نے سات کنکریاں ماری ہیں اور بعض کہہ رہے تھے: ہم نے چھ کنکریاں ماری ہیں، تاہم کسی نے ایک دوسرے پر عیب نہیں لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3917)، مسند احمد (1/168) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لانقطاعه مجاهد لم يدرك سعد بن أبى وقاص رضى الله عنه انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3080
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ , يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ؟ فَقَالَ:" مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ".
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3080]
حضرت ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جمروں کے بارے میں پوچھا تو وہ فرمانے لگے: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سات سات کنکریاں ماریں یا چھ چھ۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 78 (1977)، (تحفة الأشراف: 6541)، مسند احمد (1/372) (صحیح) (حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن اگلی حدیث میں سات کنکریاں مارنے کا بیان ہے، اس لیے اس میں موجود شک چھ یا سات کنکری کی بات غریب اور خود ابن عباس اور دوسروں کی احادیث کے خلاف ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں