سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ: الْقَدْرِ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ
باب: کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3309
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ الْحَارِثُ: فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ (حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا) «عشر رضعات معلومات يحرمن» (دس (واضح) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کر دیں گے)، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کر دیا گیا (یعنی خمس رضعات معلومات)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3309]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو احکام نازل فرمائے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ ”بچہ دس دفعہ کسی عورت کا واضح طور پر دودھ پی لے تو ان سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔“ پھر یہ حکم منسوخ کرکے حرمت کا حکم پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے پر لاگو کردیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ حکم قرآن میں پڑھا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 6 (1452)، سنن ابی داود/النکاح 11 (2062)، سنن الترمذی/الرضاع 3 (1150)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1942)، (تحفة الأشراف: 17897)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2299) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ کے انتقال کے قریبی زمانہ میں پانچ گھونٹ کی بھی آیت منسوخ ہو گئی، لیکن جنہیں بروقت اس کے منسوخ ہونے کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے اس کے پڑھے جانے کا ہی ذکر کر دیا ہے۔ پھر جب انہیں منسوخ ہونے کا علم ہو گیا تو انہوں نے بھی اس کا پڑھنا (و لکھنا) ترک کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3310
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَيُّوبُ , عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرَّضَاعِ، فَقَالَ:" لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ" , وَقَالَ قَتَادَةُ:" الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ".
ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعت (یعنی دودھ پلانے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار کا پلانا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا“۔ قتادہ اپنی روایت میں «الإملاجة ولا الإملاجتان» کی جگہ «المصة والمصتان» کہتے ہیں، یعنی ”ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3310]
حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دو گھونٹ یا ایک دو دفعہ چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 5 (1451)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1940)، (تحفة الأشراف: 18051)، مسند احمد (6/339، 340)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2298) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3311
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ".
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3311]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دو دفعہ چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5281)، مسند احمد (4/4، 5) (صحیح، انظر ما بعدہ 3102)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3312
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دو گھونٹ یا ایک دو دفعہ چوسنا حرمت ثابت نہیں کرتے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 5 (1450)، سنن ابی داود/النکاح11 (2063)، سنن الترمذی/الرضاع3 (1150)، سنن ابن ماجہ/النکاح35 (1941)، (تحفة الأشراف: 17189)، مسند احمد 6/31، 95، 216، 247) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پی لینے سے اس سے نکاح کی حرمت کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ؟ فَكَتَبَ , أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَنَا , أَنَّ عَلِيًّا , وَابْنَ مَسْعُودٍ، كانا يقولان: يحرم من الرضاع قليله وكثيره، وكان في كتابه أن أبا الشعثاء المحاربي حَدَّثَنَا , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ".
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس (خط) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت (نکاح) ثابت ہو جائے گی، اور ان کی کتاب (تحریر) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ایک بار یا دو بار اچک لینے (یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3313]
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ کی طرف رضاعت کے بارے میں سوال لکھ بھیجا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ شریح رحمہ اللہ نے ہم سے بیان فرمایا کہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما تھوڑی یا زیادہ رضاعت سے حرمت کے قائل تھے، ان کے تحریری جواب میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں ابو الشعثاء محاربی رحمہ اللہ نے سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جلد بازی میں ایک دفعہ چوسنا حرمت کا سبب نہیں بنتا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10124، 16133) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے یہاں قول صحابہ پر نہیں قول رسول پر عمل ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3314
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ:" انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ وَمَرَّةً أُخْرَى انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے (اس وقت) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا: ”اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں (جبکہ دودھ ہی غذا ہو) ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3314]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت شاق گزری اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناراضی کے اثرات محسوس کیے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح دیکھ لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں؟ کیونکہ رضاعت اس دور میں معتبر ہے جب دودھ ہی بھوک مٹاتا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 7 (2647)، النکاح 22 (5102)، صحیح مسلم/الرضاع 8 (1455)، سنن ابی داود/النکاح 9 (2058)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1945)، (تحفة الأشراف: 1758)، مسند احمد (6/94، 138، 174، 241) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه