🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. بَابُ: لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: عورت کے دودھ پلانے سے اس کے شوہر سے بھی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3315
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ رَجُلًا يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت (دودھ کا رشتہ) ویسے ہی (نکاح کو) حرام کرتا ہے جیسے ولادت (نسل) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3315]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرما تھے، میں نے سنا کہ ایک آدمی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ (کی بیوی) کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے، یہ فلاں شخص ہے، حفصہ کا رضاعی چچا۔ میں نے ایک رضاعی چچا کا نام لیتے ہوئے کہا: اگر فلاں شخص زندہ ہوتا تو وہ میرے گھر آ سکتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ پینا بھی ان سب رشتوں کو حرام کر دیتا ہے جنہیں نسبی رشتہ حرام کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 7 (2646)، الخمس 4 (3105)، النکاح20 (5099)، صحیح مسلم/الرضاع 1 (1444)، (تحفة الأشراف: 17900)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1)، مسند احمد (6/44، 51، 178، سنن الدارمی/النکاح 49 (2299) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3316
أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي أَبُو الْجَعْدِ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَرَدَدْتُهُ، قَالَ: وَقَالَ هِشَامٌ: هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنِي لَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد میرے پاس آئے، تو میں نے انہیں واپس لوٹا دیا (ہشام کہتے ہیں کہ وہ ابوالقعیس تھے)، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں (گھر میں) آنے کی اجازت دو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3316]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا رضاعی چچا ابوالجعد مجھے ملنے آیا مگر میں نے اسے گھر میں داخل نہ ہونے دیا۔ اور ہشام نے کہا: وہ ابوالقعیس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو میں نے آپ کو سارا واقعہ بتلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے گھر میں آنے کی اجازت دو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 2 (1445)، (تحفة الأشراف: 16375)، مسند احمد (6/201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ بَعْدَ آيَةِ الْحِجَابِ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ"، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3317]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (ان کے رضاعی باپ) ابوالقعیس کا بھائی پردے والی آیت اترنے کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: اسے اجازت دو۔ بلاشبہ تمہارا چچا ہے۔ میں نے عرض کیا: مجھے تو عورت ہی نے دودھ پلایا تھا نہ کہ مرد نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلاشبہ وہ تیرا چچا ہے۔ تیرے پاس آسکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ وَهُوَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3318]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (میرے رضاعی والد) ابو القعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جبکہ وہ میرا رضاعی چچا تھا، میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے۔ یہ واقعہ پردے کا حکم اترنے کے بعد کا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 22 (5103)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، (تحفة الأشراف: 16597)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/177) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3319
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ:" ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے (وہ میرے محرم کیسے ہو گئے)، آپ نے فرمایا: تم انہیں (اندر) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے (تمہیں نہیں معلوم؟) وہ تمہارے چچا ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3319]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے (رضاعی) چچا افلح نے پردے کے احکام اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے انہیں اجازت نہ دی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دے دیا کرو، وہ تمہارے چچا ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، سنن ابن ماجہ/النکاح 38 (1948)، (تحفة الأشراف: 16443، 16926) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3320
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ , وَإِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ، يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح (میرے پاس گھر میں آنے کی) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: (نہیں) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: (بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3320]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے رضاعی باپ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے کہا: میں انہیں اجازت نہیں دوں گی حتیٰ کہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے، وہ اندر آنے کی اجازت طلب کرتے تھے، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دے دیا کرو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں