🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. بَابُ: الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ
باب: رضاعت کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3332
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ:" وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ".
عقبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ہمارے پاس ایک حبشی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ میں نے فلان بنت فلاں سے شادی کی ہے پھر میرے پاس ایک حبشی عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، (یہ سن کر) آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا ۱؎ تو میں پھر آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹی ہے، آپ نے فرمایا: تم اسے کیسے جھوٹی کہہ سکتے ہو، جب کہ وہ بیان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو اس کو چھوڑ کر اپنے سے الگ کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3332]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تو ہمارے پاس ایک کالے رنگ کی عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے تو تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ (اس لیے تمہارا نکاح درست نہیں۔) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا واقعہ بیان کیا اور میں نے کہا: میں نے ایک عورت فلانہ بنت فلاں سے شادی کی ہے۔ میرے پاس ایک کالے رنگ کی عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا۔ میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہِ انور کی جانب آیا اور کہا کہ وہ جھوٹ بولتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیسے اس (اپنی بیوی) کے ساتھ رہ سکتا ہے جب کہ وہ کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟ اسے چھوڑ دے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 26 (88)، البیوع 3 (2052)، الشہادات 4 (2640)، 13 (2659)، 14 (2660)، والنکاح 23 (5104)، سنن ابی داود/الأقضیة 18 (3604)، سنن الترمذی/الرضاع 4 (1151)، (تحفة الأشراف: 9905)، مسند احمد (4/7، 8، 384، سنن الدارمی/النکاح 51 (2301) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ یہ شخص اس بات سے آگاہ ہو جائے کہ ایسی صورت میں کسی عقلمند کے لیے مناسب نہیں کہ اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھے چہ جائیکہ اس کے متعلق کوئی سوال کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں