صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ إِذَا غَدَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ:
باب: صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , فَقَالَ:" كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ مِنَّا الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے محمد بن ابی بکر ثقفی سے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ جب کہ وہ دونوں صبح کو منیٰ سے عرفات جا رہے تھے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگ آج کے دن کس طرح کرتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا: کوئی ہم میں سے لبیک پکارتا ہوتا، اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور کوئی تکبیر کہتا، اس پر کوئی انکار نہ کرتا (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی کو اختیار ہے لبیک پکارتا رہے یا تکبیر کہتا رہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1659]
حضرت محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، جب یہ دونوں منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے: آپ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جاتے وقت اس دن کیا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم میں سے کچھ تلبیہ کہتے تھے، انہیں کوئی بُرا نہیں کہتا تھا جبکہ کچھ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے تھے، انہیں بھی کوئی بُرا خیال نہیں کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة