🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

87. بَابُ التَّهْجِيرِ بِالرَّوَاحِ يَوْمَ عَرَفَةَ:
باب: عرفہ کے دن گرمی میں دوپہر کو روانہ ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ:" كَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَى الْحَجَّاجِ أَنْ لَا يُخَالِفَ ابْنَ عُمَرَ فِي الْحَجِّ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَاحَ عِنْدَ سُرَادِقِ الْحَجَّاجِ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ الرَّوَاحَ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ، قَالَ: هَذِهِ السَّاعَةَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْظِرْنِي حَتَّى أُفِيضَ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخْرُجُ، فَنَزَلَ حَتَّى خَرَجَ الْحَجَّاجُ فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي، فَقُلْتُ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ، وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ"، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: صَدَقَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے سالم نے بیان کیا کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ حج کے احکام میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف نہ کرے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن سورج ڈھلتے ہی تشریف لائے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ آپ نے حجاج کے خیمہ کے پاس بلند آواز سے پکارا۔ حجاج باہر نکلا اس کے بدن میں ایک کسم میں رنگی ہوئی چادر تھی۔ اس نے پوچھا ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا اگر سنت کے مطابق عمل چاہتے ہو تو جلدی اٹھ کر چل کھڑے ہو جاؤ۔ اس نے کہا کیا اسی وقت؟ عبداللہ نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ حجاج نے کہا کہ پھر تھوڑی سی مہلت دیجئیے کہ میں اپنے سر پر پانی ڈال لوں یعنی غسل کر لوں پھر نکلتا ہوں۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (سواری سے) اتر گئے اور جب حجاج باہر آیا تو میرے اور والد (ابن عمر) کے درمیان چلنے لگا تو میں نے کہا کہ اگر سنت پر عمل کا ارادہ ہے تو خطبہ میں اختصار اور وقوف (عرفات) میں جلدی کرنا۔ اس بات پر وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ سچ کہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1660]
حضرت سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو خط لکھا کہ وہ احکامِ حج میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہ کرے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن زوالِ آفتاب کے بعد تشریف لائے جبکہ میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے حجاج کے ڈیرے کے پاس پہنچ کر زور سے آواز دی تو حجاج کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے باہر نکلا اور کہنے لگا: ابو عبدالرحمن! کیا بات ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تمہیں سنت کی پیروی مطلوب ہے تو ابھی چلنا چاہیے۔ حجاج بولا: بالکل اسی وقت؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ حجاج نے کہا: مجھے اتنی مہلت دیں کہ میں اپنے سر پر پانی بہا لوں پھر چلتا ہوں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری سے نیچے اتر پڑے، یہاں تک کہ حجاج فارغ ہو کر نکلا۔ جب وہ میرے اور والد گرامی کے درمیان چلنے لگا تو میں نے کہا کہ اگر تو سنت کی پیروی چاہتا ہے تو خطبہ مختصر پڑھنا اور وقوف میں جلدی کرنا۔ یہ سن کر حجاج حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگا۔ جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ سالم سچ کہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں