سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. بَابُ: الرَّجْعَةِ
باب: (طلاق سے) رجعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرُ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ يَعْنِي فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا"، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَاحْتَسَبْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُهَا أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میری بیوی حالت حیض میں تھی اسی دوران میں نے اسے طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ حالت طہر میں آ جائے تو اسے اختیار ہے، چاہے تو اسے طلاق دیدے“۔ یونس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے (پہلی طلاق) کو شمار و حساب میں رکھا ہے تو انہوں نے کہا: نہ رکھنے کی کوئی وجہ؟ تمہیں بتاؤ اگر کوئی عاجز ہو جائے یا حماقت کر بیٹھے (تو کیا شمار نہ ہو گی؟)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3585]
حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جب کہ وہ حیض سے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے۔ جب وہ پاک ہو جائے پھر چاہے تو طلاق دے دے۔“ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا وہ طلاق شمار کی گئی؟ انہوں نے فرمایا: اور کیا! تم بتاؤ کہ اگر طلاق دینے والا صحیح طلاق سے عاجز رہا اور اس نے حماقت کر دی تو کیا طلاق شمار نہیں ہو گی؟ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. ح وأَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالُوا: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، فَإِذَا طَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، فَإِنَّهُ الطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، قَالَ تَعَالَى: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ اسے لوٹا لے پھر جب دوسرا حیض آ کر پاک ہو جائے تو چاہے تو اسے طلاق دیدے اور چاہے تو اسے روکے رکھے، یہی وہ طلاق ہے جو اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فطلقوهن لعدتهن» ”انہیں طلاق دو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں“ (الطلاق: ۱)“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3586]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ اسے ایک حیض اور آئے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دے دے، چاہے رکھ لے۔ یہ وہ طلاق ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”عورتوں کو ان کے صحیح وقت میں طلاق دو۔““ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3587
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَقُولُ: أَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ".
نافع کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی ایسے شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو تو وہ کہتے: اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دو طلاقیں دی ہیں (تو ایسی صورت میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کر لینے کا حکم دیا ہے پھر اسے دوسرے حیض آنے تک روکے رکھے پھر جب وہ (دوسرے حیض سے) پاک ہو جائے تو اسے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دیدے اور اگر اس نے تین طلاقیں (ایک بار حالت حیض ہی میں) دے دی ہیں تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملہ میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے ۱؎ لیکن تین طلاق کی وجہ سے اس کی عورت بائنہ ہو جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3587]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس شخص کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ فرماتے: اگر اس نے پہلی یا دوسری طلاق دی ہے تو (وہ جماع کرے کیونکہ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ”اس سے رجوع کر، پھر اسے اپنے پاس رکھ حتیٰ کہ اسے ایک اور حیض آئے، پھر وہ پاک ہو تو اب چاہے تو اسے جماع سے پہلے طلاق دے دے۔“ اگر تو نے تیسری طلاق دی ہے تو تو نے عورت کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، (تحفة الأشراف: 7544)، مسند احمد (2/64، 102) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ نے عورت کو طلاق دینے کا جو طریقہ بتایا تھا اس نے اس کے موافق کام نہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3588
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى مَرْوَزِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعَهَا".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی اس وقت حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کر لینے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے اسے لوٹا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3588]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کا حکم دیا، لہٰذا انہوں نے رجوع کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6758)، مسند احمد (2/61) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3589
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ"، وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى هَذَا.
طاؤس کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے اس وقت سنا جب ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھنے والے سے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا: (انہیں کا واقعہ ہے) کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے یہاں تک کہ (حیض آئے اور پھر) حیض سے پاک ہو جائے“ (اب چاہے تو طلاق نہ دے اپنی زوجیت میں قائم رکھے) طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سے مزید کچھ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3589]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی۔ انہوں نے فرمایا: ”تو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ وہ پاک ہو، تو پھر چاہے تو اسے طلاق دے دے۔“ (راوئ حدیث عبداللہ بن طاوس نے کہا کہ) میں نے اس سے زیادہ، اس (اپنے باپ) سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق1 (1471)، (تحفة الأشراف: 7101)، مسند احمد (2/145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3590
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: نُبِّئْتُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَمْرٌو: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ طَلَّقَ حَفْصَةَ، ثُمَّ رَاجَعَهَا" , وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع فرمایا تھا۔ واللہ اعلم، (اللہ بہتر جانتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3590]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع فرما لیا تھا۔ «وَاللَّهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 38 (2283)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 1 (2016)، (تحفة الأشراف: 1093)، سنن الدارمی/الطلاق 2 (2310) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح