🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

91. بَابُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ:
باب: میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1664
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، كُنْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ،" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے باپ نے کہ میں اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا (دوسری سند) اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن دینار نے، انہوں نے محمد بن جبیر سے سنا کہ ان کے والد جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا تھا تو میں عرفات میں اس کو تلاش کرنے گیا، یہ دن عرفات کا تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں۔ میری زبان سے نکلا قسم اللہ کی! یہ تو قریش ہیں پھر یہ یہاں کیوں ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1664]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (قبل از اسلام) ایک دفعہ میرا اونٹ گم ہو گیا۔ میں عرفہ کے دن اسے تلاش کرنے نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم! یہ تو قومِ حمس سے ہیں (جو حدودِ حرم سے باہر نہیں نکلتے) یہاں ان کا کیا کام ہے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ عُرْوَةُ" كَانَ النَّاسُ يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ، وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ يَحْتَسِبُونَ عَلَى النَّاسِ يُعْطِي الرَّجُلُ الرَّجُلَ الثِّيَابَ يَطُوفُ فِيهَا، وَتُعْطِي الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ الثِّيَابَ تَطُوفُ فِيهَا، فَمَنْ لَمْ يُعْطِهِ الْحُمْسُ طَافَ بالبيت عُرْيَانًا، وَكَانَ يُفِيضُ جَمَاعَةُ النَّاسِ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَيُفِيضُ الْحُمْسُ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْحُمْسِ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَ: كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ فَدُفِعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ".
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے، (اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ) لوگوں کو (اللہ کے واسطے) کپڑے دیا کرتے تھے۔ (قریش) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور (قریش کی) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیں دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے (جو حرم میں تھا) واپس ہو جاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ پھر تم بھی (قریش) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں (یعنی عرفات سے، سورۃ البقرہ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1665]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دورِ جاہلیت میں «الْحُمْسُ» کے علاوہ دوسرے لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے۔ «الْحُمْسُ» سے مراد قریش اور اس کی اولاد ہے۔ قریش نیکی سمجھ کر لوگوں کو کپڑے دیتے، مرد مرد کو کپڑے دیتا وہ ان میں طواف کرتا اور عورت عورت کو کپڑے دیتی وہ ان میں طواف کرتی۔ جسے قریش کپڑے نہ دیتے وہ ننگا ہوکر بیت اللہ کا طواف کرتا۔ دوسرے لوگ تو میدانِ عرفات سے واپس آتے لیکن «الْحُمْسُ» مزدلفہ ہی سے واپس آجاتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ درج ذیل آیتِ کریمہ ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] پھر تم لوگ وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں قریش کے متعلق نازل ہوئی؛ راوی کہتے ہیں کہ قریش مزدلفہ سے پلٹ آتے تھے، اس لیے انھیں عرفات کی طرف بھیجا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں