🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ: السَّبَقِ
باب: مسابقت (آگے بڑھنے کے مقابلے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3615
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف تین چیزوں میں (انعام و اکرام کی) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3615]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی، گھڑ دوڑ اور اونٹ دوڑ کے علاوہ کسی مقابلے میں انعام (مقرر کرنا یا حاصل کرنا) درست نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 67 (2574)، سنن الترمذی/الجہاد22 (1700)، (تحفة الأشراف: 14638)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3616
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3616]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی، گھوڑ دوڑ اور اونٹ دوڑ کے علاوہ کسی چیز میں انعام نہیں رکھا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3617
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الْجُنْدَعِيِّينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ سَبَقٌ إِلَّا عَلَى خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ شرط حلال نہیں ہے سوائے اونٹ میں اور گھوڑے میں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3617]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹ دوڑ یا گھوڑ دوڑ کے علاوہ کسی مقابلے میں انعام مقرر کرنا حلال اور جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15447) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «خف» : (اونٹ کا پاؤں) مراد ہے اونٹ، اور «حافر» : (جانور کا گھر) مراد ہے گھوڑا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ، فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، قَالَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ إِلَّا وَضَعَهُ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات (ہار) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی (اور ہمیں اس کا رنج ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کے حق (و اختیار) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے (اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3618]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جسے عضباء کہا جاتا تھا۔ اس سے کوئی اونٹ آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ ایک اعرابی اپنے جوان اونٹ پر آیا اور اس سے مقابلے میں آگے بڑھ گیا۔ یہ بات مسلمانوں کو بہت ناگوار گزری۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کے تأثرات دیکھے جبکہ وہ کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول! عضباء تو پیچھے رہ گئی! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات لازم قرار دے لی ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی بلند مرتبہ ہوگی، اللہ تعالیٰ اسے (کسی نہ کسی وقت) نیچا دکھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 641)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 59 (2871)، الرقاق 38 (6501)، سنن ابی داود/الأدب 9 (4802) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3619
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلًى لِبَنِي لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3619]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں اور گھوڑوں کے علاوہ دیگر جانوروں میں دوڑ کا انعامی مقابلہ نہیں کروایا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، (تحفة الأشراف: 14877) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں