🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : السبق
باب: مسابقت (آگے بڑھنے کے مقابلے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ، فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، قَالَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ إِلَّا وَضَعَهُ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات (ہار) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی (اور ہمیں اس کا رنج ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کے حق (و اختیار) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے (اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 641)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 59 (2871)، الرقاق 38 (6501)، سنن ابی داود/الأدب 9 (4802) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6501
العضباء لا تسبق فجاء أعرابي على قعود له فسبقها فاشتد ذلك على المسلمين حقا على الله أن لا يرفع شيئا من الدنيا إلا وضعه
صحيح البخاري
2872
للنبي ناقة تسمى العضباء لا تسبق فجاء أعرابي على قعود فسبقها فشق ذلك على المسلمين حق على الله أن لا يرتفع شيء من الدنيا إلا وضعه
صحيح البخاري
2871
ناقة النبي يقال لها العضباء
سنن أبي داود
4802
العضباء لا تسبق فجاء أعرابي على قعود له فسابقها فسبقها الأعرابي فكأن ذلك شق على أصحاب رسول الله حق على الله أن لا يرفع شيئا من الدنيا إلا وضعه
سنن النسائى الصغرى
3618
لرسول الله ناقة تسمى العضباء لا تسبق فجاء أعرابي على قعود فسبقها فشق على المسلمين حقا على الله أن لا يرتفع من الدنيا شيء إلا وضعه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3618 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3618
اردو حاشہ:
(1) عضباء، لغوی لحاظ سے اس کے معنی کن کٹی ہیں مگر آپ کی اونٹنی کن کٹی نہیں تھی بلکہ اس کا عرفی نام عضباء تھا۔ ممکن ہے کان زیادہ چھوٹے ہوں‘ تشبیہاً عضباء کہہ دیا گیا ہو۔
(2) نیچا دکھائے گا کیونکہ ﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ﴾ (الرحمن: 55:26) دنیا کی ہرچیز زوال پذیر ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ کوئی چیز ہمیشہ عروج کی حالت میں رہے۔ ہر جوان نے بوڑھا ہونا ہے اور ہر قوی نے کمزور ہونا ہے۔ ہر تیز نے سست ہوتا ہے۔ إلا ماشاء اللہ۔
(3) صحابہؓ کے دلوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وعظمت اتنی زیادہ تھی کہ وہ آپ کی اونٹنی پر بھی کسی کی سبقت لے جانا پسند نہیں کرتے تھے جبکہ بدوحضرات میں بے ادبی اور سختی پائی جاتی تھی۔
(4) حدیث تواضع اور انکسار پر ابھارتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع‘ انکسار اور حسن خلق کی مثال ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3618]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6501
6501. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جسے عضباء کہا جاتا تھا۔ کوئی جانور بھی اس کے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر سوار آیا اور اس سے آگے بڑھ گیا۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بہت شاق گزرا اور کہنے لگے: افسوس! عضباء پیچھے رہ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالٰی نے خود پر لازم کرلیا ہے کہ دنیا میں وہ کسی چیز کو بلند کرتا ہے تو اسے نیچے بھی لاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6501]
حدیث حاشیہ:
ترقی کے ساتھ تنزلی اور اوبار کے ساتھ اقبال لگا ہوا ہے ﴿تلكَ الأیَّامُ نُداوِلُھا بینَ النَّاسِ﴾ (آل عمران: 160)
کا یہی مطلب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6501]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2871
2871. حضرت انس ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کانام عضباء تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2871]
حدیث حاشیہ:
مؤرخین اسلام اس بارے میں متفق نہیں ہیں کہ قصواء‘ جدعاء اور عضباء یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تین اونٹنیوں کے نام تھے یا اونٹنی صرف ایک تھی اور نام اس کے تین تھے۔
مسور بن مخرمہ والی تعلیق کو ابوداود نے وصل کیا ہے۔
کہتے ہیں قصواء اور عضباء ایک ہی اونٹنی کے نام تھے اور اسی کا نام جدعاء بھی تھا اور شہباء بھی۔
وحی اترنے کے وقت آپ کو یہی اونٹنی سنبھالتی اور کوئی اونٹنی نہ اٹھا سکتی تھی‘ اس کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی کئی اونٹنیاں تھیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2871]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2872
2872. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا، دوڑ میں اس سے آگے کوئی اونٹنی نہیں بڑھ سکتی تھی۔ (راوی حدیث) حمید نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ اس سے آگےبڑھا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ آخر ایک دیہاتی ایک نوجوان اونٹ پر سوار ہوکر آیا اور اس سے آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ امر ناگوار گزرا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناگواری محسوس کی تو فرمایا: اللہ پر حق ہے کہ دنیا کی جو چیز بلند ہے اسے پست کردے۔ موسیٰ نے حماد سے، انھوں نے ثابت سے، انھوں نے حضرت انس ؓسے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو طوالت سے بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2872]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بہت سے مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔
اونٹ‘ گھوڑے کا نام رکھنا‘ ان میں دوڑ کرانا اور بطور قاعدہ کلیہ یہ کہ دنیا میں بڑھنے والی اور مغرور ہونے والی طاقتوں کو اللہ ضرور ایک نہ ایک دن نیچا دکھاتا ہے۔
اس حدیث سے یہ ساری باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2872]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2872
2872. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا، دوڑ میں اس سے آگے کوئی اونٹنی نہیں بڑھ سکتی تھی۔ (راوی حدیث) حمید نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ اس سے آگےبڑھا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ آخر ایک دیہاتی ایک نوجوان اونٹ پر سوار ہوکر آیا اور اس سے آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ امر ناگوار گزرا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناگواری محسوس کی تو فرمایا: اللہ پر حق ہے کہ دنیا کی جو چیز بلند ہے اسے پست کردے۔ موسیٰ نے حماد سے، انھوں نے ثابت سے، انھوں نے حضرت انس ؓسے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو طوالت سے بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2872]
حدیث حاشیہ:

سیرت نگار حضرات کا اس امر میں اختلاف ہے کہ عضباء اور قصواء دو اونٹنیوں کے نام ہیں یا اونٹنی صرف ایک تھی اور نام اس کے دو تھے۔
اس کے علاوہ دوسری اونٹنیوں کا ذکر بھی کتب سیرت میں ملتا ہے۔

اس حدیث میں اشارہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی چیز آخر زوال پذیر ہے لہٰذا اس میں دلچسپی رکھنے کی بجائے اپنی آخرت بہتر بنانے کی فکر کرنی چاہیےکہا جاتا ہے (ہر کمالے راز والے)
ہر کمال کو زوال ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2872]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6501
6501. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جسے عضباء کہا جاتا تھا۔ کوئی جانور بھی اس کے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر سوار آیا اور اس سے آگے بڑھ گیا۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بہت شاق گزرا اور کہنے لگے: افسوس! عضباء پیچھے رہ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالٰی نے خود پر لازم کرلیا ہے کہ دنیا میں وہ کسی چیز کو بلند کرتا ہے تو اسے نیچے بھی لاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6501]
حدیث حاشیہ:
تواضع کے معنی ہیں:
انکسار و عاجزی۔
فخر و غرور سے بچنا، دوسروں کا احترام، کم درجے کے لوگوں سے میل ملاپ اور ان سے حسن سلوک کو شان کے خلاف نہ سمجھنا، تواضع کے ثمرات ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے تواضع کا رویہ اختیار کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو حتی کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے۔
(صحیح مسلم، الجنة و نعیمھا، حدیث: 7210 (2865)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی عضباء کے متعلق جن جذبات کا اظہار کیا ہے وہ تواضع ہی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6501]