سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الْعُمْرى لِلْوَارِثِ
باب: عمریٰ (یعنی تاحیات عطیہ) وارث کا حق ہے۔
حدیث نمبر: 3750
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعُمْرَى هِيَ لِلْوَارِثِ".
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3750]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ورثاء ہی کو ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3745 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی ہے وہ اگر مر جائے تو وہ دینے والے کو نہیں ملے گی بلکہ اس کے حق داران کے وارث ہوں گے جس کو وہ چیز دی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3751
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ".
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3751]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ (معمرلہ کے) ورثاء کو ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3746 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3752
أخبرنا محمد بن المثنى عن سفيان عن عمرو عن طاوس عن حجر المدري عن زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى بالعمرى للوارث .
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3752]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: ” «العُمْرَىٰ» (عمریٰ) ورثاء کو ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3746 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ".
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ عمریٰ وارث کا حق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3753]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ (معمرلہ کی وفات کے بعد اس کے) ورثاء کو مل جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3746 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3754
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّهُ عَرَضَ عَلَيَّ مَعْقِلٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ، وَلَا تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِسَبِيلِهِ".
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز (صرف) عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز جس کو دی ہے اس کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مر جانے کے بعد بھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) رقبیٰ نہ کرو کیونکہ جس نے رقبیٰ کیا ہے (وہ اسے نہ ملے گی) وہ موہوب لہ کے راستہ ہی میں رہے گی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3754]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی چیز بطور عمریٰ دی تو وہ اس کی ہوگی جس کو دی گئی، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی، اور رقبیٰ نہ دیا کرو، جس شخص کو کوئی چیز بطور رقبیٰ دی گئی تو وہ اپنے راستے ہی پر جائے گی (یعنی جسے دی گئی اسی کی ہو جائے گی، واپس نہیں آئے گی)۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3746 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اب وہ موہوب لہٗ کی میراث میں تقسیم ہو گی، ہبہ کرنے والے کی طرف نہیں لوٹے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3755
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ الْحَجُورِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3755]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہوجائے گا (واپس نہیں آئے گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5393)، مسند احمد (1/250) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر کوئی کسی کو کوئی چیز زندگی بھر کے لیے دیتا ہے تو دے سکتا ہے مگر دینے کے بعد واپس نہ ہو گی جس کو دیا ہے (وہ ہمیشہ کے لیے) اسی کی ہو جائے گی، اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3756
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3756]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5742)، مسند احمد (1/250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3757
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ طَاوُسٍ" بَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى".
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ کو کاٹ کر الگ کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3757]
حضرت طاوس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عمریٰ اور رقبیٰ کو قطعی قرار دیا ہے“ (وہ واپس نہیں ہوں گے)۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (طاؤس نے اسے مرسل روایت کیا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واہب (دینے والے) سے کاٹ کر الگ کر دیا، اب وہ واپس لینے کا حقدار نہیں، جس کو دیا ہے ہمیشہ کے لیے اسی کا ہو جائے گا اس کے مر جانے کے بعد اس کے ورثاء اس کے حقدار ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح