🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ جَابِرٍ فِي الْعُمْرَى
باب: عمریٰ سے متعلق جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3758
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ فَقَالَ:" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: عمریٰ نافذ ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3758]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن انہیں خطبہ ارشاد فرمایا جس میں فرمایا: عمریٰ نافذ ہو جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2481) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى"، قُلْتُ: وَمَا الرُّقْبَى، قَالَ: يَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ فَإِنْ فَعَلْتُمْ فَهُوَ جَائِزَةٌ.
عطاء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ سے روکا ہے، (راوی حدیث عبدالکریم کہتے ہیں کہ) میں نے (عطاء سے) پوچھا: رقبیٰ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آدمی آدمی سے کہے کہ یہ چیز زندگی بھر کے لیے تمہاری ہے، اگر تم نے اس طرح کہہ کر دیا تو یہ چیز نافذ ہو گی یعنی ہمیشہ کے لیے اس کی ہو جائے گی جسے تم نے دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3759]
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعُمْرَىٰ» عمریٰ اور «الرُّقْبَىٰ» رقبیٰ سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: رقبیٰ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کوئی شخص دوسرے شخص سے کہے: یہ چیز تیری زندگی تک تیرے لیے ہے۔ ویسے اگر تم عمریٰ یا رقبیٰ کرو گے تو وہ نافذ ہو جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 19053) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، لیکن شواہد کی بنا پر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3760
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ نافذ ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3760]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جاری ہو جائے گا (واپس نہیں آئے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 32 (2626)، صحیح مسلم/الہبة 4 (1625)، (تحفة الأشراف: 2470)، مسند احمد (2/429، 3/297، 319، 361، 363، 363، 392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُعْطِيَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ".
عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز صرف زندگی بھر برتنے کے لیے دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3761]
حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو کوئی چیز زندگی بھر کے لیے دی گئی، وہ اسی کی ہے، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی (یعنی اصل شخص کی موت کے بعد اس کے ورثاء کی ہوگی)۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19054) (صحیح) (طاؤس نے اسے مرسل روایت کیا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُرْقِبُوا وَلَا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أُرْقِبَ أَوْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَوَرَثَتِهِ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ رقبیٰ اور عمریٰ نہ کیا کرو۔ (جان لو) اگر کوئی چیز کسی کو بطور رقبیٰ یا بطور عمریٰ دی گئی تو جس کو دی گئی ہے (اس کے نہ رہنے پر) اس کے ورثاء کی ہو جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3762]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الرُّقْبَىٰ» اور «الْعُمْرَىٰ» نہ دو، جس شخص کو کوئی چیز بطور «عُمْرَىٰ» یا «رُقْبَىٰ» دی گئی، وہ (اس کی وفات کے بعد) اس کے ورثاء کی ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 88 (3556)، (تحفة الأشراف: 2458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3763
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اور رقبیٰ (مناسب) نہیں ہے اور اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3763]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اور رقبیٰ نہیں لوٹیں گے، لہٰذا جس شخص کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دی گئی، وہ اسی کی ہے، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الہبات 4 (2382)، (تحفة الأشراف: 6680)، مسند احمد (2/34، 73) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3764
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ"، قَالَ عَطَاءٌ: هُوَ لِلْآخَرِ.
حبیب بن ابی ثابت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، (اور امام نسائی کہتے ہیں انہوں نے ان سے سنا نہیں ہے) ۱؎ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ عمریٰ (مناسب) ہے اور نہ رقبیٰ لیکن اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو گی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے پر بھی، عطاء کہتے ہیں: (دونوں دینے اور پانے والوں میں سے) آخر والے کو ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3764]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اور رقبیٰ مناسب نہیں۔ جس شخص کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دی گئی، وہ اسی کی ہے، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ یہ دوسرے شخص (جسے عمریٰ یا رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہے اس) کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگلی سند میں صراحت ہے کہ حبیب نے ابن عمر رضی الله عنہما سے یہ حدیث سنی ہے، ابن حبان بھی کہتے ہیں کہ حبیب کا ابن عمر سے سماع ثابت ہے، مزی نے دونوں کے ترجمے میں سماع کے نہ ہونے کا تذکرہ نہیں کیا ہے، حالانکہ اگر ایسا معاملہ ہوتا تو وہ ضرور کہتے «ولم یسمع منہ» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3765
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقْبَى، وَقَالَ:" مَنْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهُوَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کرنے سے منع کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے: جس شخص کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی وہ چیز (ہمیشہ کے لیے) اسی کی ہو جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3765]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ سے منع فرمایا ہے، نیز فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز بطور رقبیٰ دی گئی، وہ اسی کی رہے گی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3763 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3766
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کو کوئی چیز عمریٰ میں دی گئی تو وہ اسی کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3766]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی، وہ زندگی اور موت ہر حال میں اسی کی رہے گی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الہبات4 (1625)، (تحفة الأشراف: 2821) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3767
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ يَعْنِي أَمْوَالَكُمْ لَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اپنے مال اپنے پاس روکے رکھو اور اسے عمریٰ میں نہ دو کیونکہ اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ میں دی (تو وہ چیز اسے پھر واپس نہ ملے گی) وہ اس کی ہو جائے گی جسے اس نے عمریٰ میں دی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3767]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جماعت انصار! اپنے مال اپنے پاس رکھو۔ انہیں بطورِ عمریٰ نہ دو کیونکہ جو شخص کوئی چیز بطورِ عمریٰ دے گا (وہ اسے واپس نہیں ملے گی بلکہ) وہ اسی شخص کی رہے گی جسے دی گئی۔ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الہبات 4 (1625)، (تحفة الأشراف: 2679)، مسند احمد (3/317) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مرنے کے بعد اس کے ورثاء اس کے حقدار ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں