سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: النَّذْرِ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُهُ
باب: نذر کسی (مقدر) چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 3834
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ , إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر نہ کسی (مقدر) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3834]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کرتی، البتہ یہ ایسی چیز ہے جس کے ساتھ کنجوس آدمی سے کچھ نہ کچھ مال نکالا جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3832 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3835
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ , وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3835]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) نذر انسان کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لاتی جو میں نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو، البتہ اس کے ذریعے سے بخیل شخص سے کچھ مال نکالا جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 26 (6692)، صحیح مسلم/ال نذر (1640)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3288)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 15(2123)، مسند احمد 2/242) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح