🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

109. بَابُ مَنْ قَلَّدَ الْقَلاَئِدَ بِيَدِهِ:
باب: اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے (قربانی کے جانوروں کو) قلائد پہنائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ، قَالَتْ: عَمْرَةُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے خبر دی، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ زیاد بن ابی سفیان نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ جس نے ہدی بھیج دی اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو ایک حاجی پر حرام ہوتی ہیں تاآنکہ اس کی ہدی کی قربانی کر دی جائے، عمرہ نے کہا کہ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کچھ کہا مسئلہ اس طرح نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے خود بٹے ہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا اور میرے والد محترم (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ انہیں بھیج دیا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کیا جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی تھی، اور ہدی کی قربانی بھی کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1700]
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت زیاد بن ابوسفیان رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جو شخص مکہ مکرمہ کی طرف قربانی کا جانور بھیج دے اس پر ہر وہ چیز حرام ہو جاتی ہے جو حج کرنے والے پر حرام ہوتی ہے تاآنکہ اس جانور کو ذبح کر دیا جائے۔ عمرہ رحمہا اللہ کہتی ہیں، اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا وہ درست نہیں ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی) کے ہار خود اپنے ہاتھ سے تیار کیے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان قلادوں کو پہنایا اور میرے والد محترم کے ساتھ انہیں روانہ کیا مگر کوئی چیز جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی تھی وہ حرام نہیں ہوئی تاآنکہ اس ہدی کو ذبح کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں