سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: إِبَاحَةِ الذَّبْحِ بِالْعُودِ
باب: لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ، وَبِالْعَصَا؟، قَالَ:" أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا، اور شکار کو پا لیتا ہوں، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4406]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور شکار کو پکڑ لیتا ہوں لیکن مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے ذبح کر سکوں تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر یا لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے بھی ہو سکے، خون بہا دے، البتہ اللہ عزوجل کا نام ضرور لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4309 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4407
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ، فَعُرِضَ لَهَا , فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ، أَوْ حَدِيدٍ؟، قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہو گیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا: لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی؟ کہا: لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کی اونٹنی احد کی طرف چر رہی تھی کہ وہ قریب المرگ ہو گئی، اس انصاری نے اسے ایک نوک دار کھونٹے کے ساتھ نحر (ذبح) کر دیا، (راویِ حدیث ایوب یا جریر نے کہا) میں نے پوچھا کہ وہ کھونٹا لکڑی کا تھا یا لوہے کا؟ استاد نے کہا: نہیں، وہ لکڑی کا تھا، پھر وہ انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4184) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح