🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ: مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4427
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ؟ , فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا كَانَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا دُونَ النَّاسِ، غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَأَنَا وَهُوَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ".
عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے؟ اس پر علی رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہو گیا اور کہا: آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں، میں اور آپ ایک گھر میں تھے، آپ نے فرمایا: اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد (ماں یا باپ) پر لعنت کی، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ۱؎، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4427]
حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو لوگوں سے الگ کوئی پوشیدہ باتیں بتلایا کرتے تھے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے حتیٰ کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اور آپ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لوگوں سے الگ کوئی پوشیدہ بات نہیں بتلاتے تھے، البتہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ چار باتیں ارشاد فرمائیں جبکہ اس وقت گھر میں، میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے باپ کو لعنت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی بدعتی یا باغی کو ٹھکانا مہیا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو زمین کی علامات کو تبدیل کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحي 8 (1978)، (تحفة الأشراف: 10152) مسند احمد (1/108، 118، 152) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ۲؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں