سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ
باب: عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4544
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ وَبِالتَّمْرِ , وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ وہ توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور سے بیچی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز میں رخصت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4545
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ , أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 83 (2190)، المساقاة 17 (2382)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541)، سنن ابی داود/البیوع 21 (3364)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1301)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، (تحفة الأشراف: 14943)، مسند احمد (2/237) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4546
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا".
سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 83 (2191)، المساقاة 17 (2384)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540)، سنن ابی داود/البیوع 20 (3363)، سنن الترمذی/البیوع 64 (1303)، (تحفة الأشراف: 4646)، مسند احمد (4/2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله حتى يبدو صلاحه
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4547
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ , أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ , وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ , إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ".
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی: درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا، سوائے اصحاب عرایا کے، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4548
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ , قَالُوا:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا".
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخمینہ (اندازہ) لگا کر کے عاریت والی بیع کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4546 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن