صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. بَابُ الذَّبْحِ قَبْلَ الْحَلْقِ:
باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔
حدیث نمبر: 1721
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:"سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِهِ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، انہیں منصور بن ذاذان نے خبر دی، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ (ترجمہ اور باب میں موافقت ظاہر ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1721]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو قربانی دینے سے پہلے سر منڈوالے یا اس قسم کا کوئی فعل کر لے تو آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1722
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ" , وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ: عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى:حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَفَّانُ: أُرَاهُ عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ حَمَّادٌ: عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ وَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز بن رفیع نے، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! رمی سے پہلے میں نے طواف زیارت کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور یا رسول اللہ! قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈوا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور قربانی کو رمی سے بھی پہلے کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ اور عبدالرحیم رازی نے ابن خشیم سے بیان کیا، کہا کہ عطاء نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور قاسم بن یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے ابن خشیم نے بیان کیا، ان سے عطاء نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ عفان بن مسلم صغار نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہیب بن خالد سے روایت ہے کہ ابن خثیم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور حماد نے قیس بن سعد اور عباد بن منصور سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1722]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں نے رمی سے پہلے طوافِ زیارت کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ پھر اس نے کہا: میں نے قربانی دینے سے قبل سر منڈوا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس نے پھر عرض کیا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے اپنی قربانی ذبح کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ عبدالرحیم رازی نے ابن خثیم سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ قاسم بن یحییٰ نے کہا: مجھے ابن خثیم نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا۔ عفان نے کہا: مجھے وہیب نے ابن خثیم سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کی۔ حماد نے قیس بن سعد اور عباد بن منصور سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ؟ فَقَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا کہ شام ہونے کے بعد میں نے رمی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ سائل نے کہا کہ قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1723]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کسی نے کہا: میں نے غروبِ آفتاب کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس نے عرض کیا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1724
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ؟ قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بالبيت وَبِالصَّفَا والمروة، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔ چنانچہ (مکہ پہنچ کر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہئے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1724]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ وادی بطحاء میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے دریافت کیا: ”آیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”تو نے احرام کیسا باندھا؟“ میں نے عرض کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام جیسا احرام باندھا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا۔ اب جاؤ بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کی سعی کرو۔“ (اس سے فراغت کے بعد) پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا تو اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ اس کے بعد میں نے دوبارہ حج کا احرام باندھا۔ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت تک یہی فتویٰ دیتا رہا۔ اس کے بعد جب میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ﴿حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے﴾ [سورة البقرة: 196] اور اگر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں تو آپ نے بھی اس وقت تک احرام نہیں کھولا حتی کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة