سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ: بَيْعِ الْخَمْرِ
باب: شراب بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4668
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ , أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَهَا؟" , فَسَارَّ وَلَمْ أَفْهَمْ مَا سَارَّ كَمَا أَرَدْتُ , فَسَأَلْتُ إِنْسَانًا إِلَى جَنْبِهِ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ سَارَرْتَهُ؟"، قَالَ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا , حَرَّمَ بَيْعَهَا" , فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا".
ابن وعلہ مصری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کی مشکیں تحفہ میں دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟“ پھر اس نے کانا پھوسی کی - میں اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکا تو میں نے اس کی بغل کے آدمی سے پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم نے اس سے کیا کانا پھوسی کی؟“، وہ بولا: میں نے اس سے کہا کہ وہ اسے بیچ دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے“، تو اس آدمی نے دونوں مشکوں کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4668]
حضرت ابن وعلہ مصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے انگور کے نچوڑے ہوئے جوس کے بارے میں پوچھا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹ پر لدی ہوئی شراب کے دو مشکیزے بطور تحفہ پیش کیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تجھے علم نہیں کہ اللہ عزوجل نے شراب حرام فرما دی ہے؟“ اس نے اپنے پہلو (بیٹھے یا کھڑے ہوئے) ایک شخص سے آہستہ سے کچھ کہا اور جو کچھ اس نے کہا، اسے میں اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میں چاہتا تھا، لہٰذا میں نے (اس کی بابت حاضرین میں سے کسی سے) پوچھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تو نے آہستہ سے اس کو کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا: میں نے اسے شراب فروخت کرنے کو کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، اس نے اس کو بیچنا بھی حرام کیا ہے۔“ اس شخص نے دونوں مشکیزوں کے منہ کھول دیے حتی کہ جو کچھ شراب اس میں تھی بہہ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 12 (البیوع 334) (1579)، (تحفة الأشراف: 5823)، موطا امام مالک/الأشربة 5 (12)، مسند احمد (1/230، 244، 323، 358)، سنن الدارمی/البیوع 35 (2613) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4669
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ الرِّبَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4669]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سود کی (حرمت کی) آیات اتریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنائیں، پھر آپ نے شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 73 (459)، البیوع 25 (2084)، 105 (2226)، تفسیر آل عمران 49-52 (4540، 4543)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (البیوع 33) (1580)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3491)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 7 (3312)، (تحفة الأشراف: 17636)، مسند احمد (6/46، 100، 127، 186، 1890، 287)، سنن الدارمی/البیوع 35 (2612) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه