سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: الْكَرَاهِيَةِ لِلنِّسَاءِ فِي إِظْهَارِ الْحُلِيِّ وَالذَّهَبِ
باب: عورتوں کے لیے زیورات اور سونے کی نمائش ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 5139
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ هُوَ الْمَعَافِرِيُّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُخْبِرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَهُ الْحِلْيَةَ وَالْحَرِيرَ، وَيَقُولُ:" إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا , فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے: ”اگر تم لوگ جنت کے زیورات اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو اسے دنیا میں نہ پہنو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5139]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو زیورات اور ریشم سے روکتے تھے اور فرماتے تھے: ”اگر تم جنت کے زیورات اور ریشم پہننا چاہتے ہو تو ان کو دنیا میں نہ پہنو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9920)، مسند احمد (4/145) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس باب میں مذکور بعض احادیث میں عورتوں کے لیے بھی سونے کے استعمال کو حرام بتایا گیا ہے، مؤلف نیز جمہور أئمہ عورتوں کے لیے سونے کے مطلق استعمال کے جواز کے قائل ہیں، اس لیے مؤلف نے ان احادیث کی گویا ایک طرح سے تاویل کرتے ہوئے یہ باب باندھا ہے، یعنی: ان احادیث میں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کو حرام قرار دیا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب وہ ان کو پہن کر بطور فخر و مباہات کی نمائش کرتی پھریں، ورنہ ہر طرح کا سونے کا زیور عورتوں کے لیے حلال ہے، بعض علماء ان احادیث کو اس حدیث سے منسوخ مانتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا اور ریشم کو مردوں کے لیے حرام کر دیا گیا ہے، اور عورتوں کے حلال کر دیا گیا ہے“، اس حدیث میں کوئی قید نہیں کہ سونے کا زیور حلقہ دار ہو یا ٹکڑے والا، علامہ البانی نے دونوں طرح کی احادیث میں تطبیق کی راہ یہ نکالی ہے (جس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے) کہ عورتوں کے لیے حلقہ دار سونے کا زیور (جیسے کنگن، بالی اور انگوٹھی وغیرہ) حرام ہے، ہاں ٹکڑے ٹکڑے والا زیور حلال ہے جیسے بٹن، ٹپ، اور ایسا ہار جس کا بعض حصہ دھاگہ ہو، وغیرہ وغیرہ، احتیاط علامہ البانی کے قول ہی میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: آداب الزفاف للألبانی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5140
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ، أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں؟ دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5140]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ محترمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم چاندی کے زیورات پہن لو؟ خبردار! جو بھی عورت سونے کے زیورات نمائش کے لیے پہنے گی، اسے اس کی بنا پر عذاب ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 8 (4237)، (تحفة الأشراف: 18043، 18386)، مسند احمد (6/357، 358، 369)، سنن الدارمی/الاستئذان 17 (2687) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’ربعی کی اہلیہ‘‘ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4237) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
حدیث نمبر: 5141
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، يُحَدِّثُ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کہتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں، دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5141]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ محترمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! کیا تمہارے لیے چاندی کے زیورات کافی نہیں؟ خبردار! جو عورت سونا نمائش کے لیے پہنے گی، اسے اسی سونے سے عذاب دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4237) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
حدیث نمبر: 5142
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ , يَعْنِي بِقِلَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ خُرْصًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اللہ تعالیٰ اس کی گردن میں اسی جیسا آگ کا ہار پہنائے گا، اور جو کان میں سونے کی بالیاں پہنے گی، اللہ تعالیٰ اس کے کان میں اسی جیسی آگ کی بالیاں قیامت کے دن پہنائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5142]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت (نمائش کے لیے) سونے کا ہار پہنے گی، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کی گردن میں آگ کا ہار ڈالے گا، اور جو عورت (نمائش کے لیے) اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالے گی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کانوں میں آگ کی بالیاں ڈالے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 8 (4238)، (تحفة الأشراف: 15776)، مسند احمد (6/453، 457، 458) (ضعیف) (اس کے راوی ’’محمود‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4238) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
حدیث نمبر: 5143
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ، فَقَالَ: كَذَا فِي كِتَابِ أَبِي , أَيْ: خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهَا , فَدَخَلَتْ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهَا الَّذِي صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَزَعَتْ فَاطِمَةُ سِلْسِلَةً فِي عُنُقِهَا مِنْ ذَهَبٍ، وَقَالَتْ: هَذِهِ أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالسِّلْسِلَةُ فِي يَدِهَا، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ , أَيَغُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟" , ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَأَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ بِالسِّلْسِلَةِ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَتْهَا , وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا غُلَامًا، وَقَالَ: مَرَّةً عَبْدًا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَأَعْتَقَتْهُ فَحُدِّثَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْجَى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ پر مارنے لگے، وہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئیں تاکہ ان سے اس برتاؤ کا گلہ شکوہ کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ کیا تھا، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گلے کا سونے کا ہار نکالا اور بولیں: یہ مجھے ابوالحسن (علی) نے تحفہ دیا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور ہار ان کے ہاتھ ہی میں تھا، آپ نے فرمایا: ”فاطمہ! تمہیں یہ بات پسند ہے کہ لوگ کہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور ہاتھ میں آگ کی زنجیر؟“، پھر آپ بیٹھے نہیں چلے گئے، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار بازار بھیج کر اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت سے ایک غلام (لڑکا) خریدا اور اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”شکر ہے اللہ کا جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دی“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5143]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضرت فاطمہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ پر (کوئی چیز) مارنے لگے۔ وہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سلوک کا شکوہ کیا۔ (یہ سن کر) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گلے میں ڈالی ہوئی سونے کی زنجیر کھینچ ڈالی اور کہنے لگیں: یہ زنجیر مجھے ابوحسن (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے تحفہ میں دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو زنجیر ان کے ہاتھ ہی میں تھی۔ آپ نے فرمایا: ”فاطمہ! کیا بات تیرے لیے عزت افزا ہے کہ (قیامت کے دن) لوگ کہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے؟“ پھر آپ واپس چلے گئے، بیٹھے نہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ زنجیر بازار بھیج کر بیچ دی اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید لیا اور اسے آزاد کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ”شکر ہے اللہ تعالیٰ کا جس نے فاطمہ کو آگ سے بچا لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2110)، مسند احمد (5/278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5144
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ , أَيْ: خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ نَحْوَهُ.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہبیرہ کی صاحب زادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں سونے کی موٹی موٹی انگوٹھیاں تھیں، پھر آگے اسی طرح بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5144]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت (فاطمہ) بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھ میں سونے کی بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ باقی روایت حسب سابق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5145
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ:" طَوْقٌ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: قُرْطَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ:" قُرْطَيْنِ مِنْ نَارٍ"، قَالَ: وَكَانَ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَمَتْ بِهِمَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ تَتَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ، قَالَ:" مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَصْنَعَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرَهُ بِزَعْفَرَانٍ، أَوْ بِعَبِيرٍ". اللَّفْظُ لِابْنِ حَرْبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس سونے کے دو کنگن ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگ کے دو کنگن ہیں“ وہ بولی: اللہ کے رسول! سونے کا ہار ہے، آپ نے فرمایا ”آگ کا ہار ہے“، وہ بولی: سونے کی دو بالیاں ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگ کی دو بالیاں ہیں“، اس عورت کے پاس سونے کے دو کنگن تھے، اس نے انہیں اتار کر پھینک دئیے اور بولی: اگر عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار نہ کرے تو وہ اس کے لیے پھر کس کام کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں چاندی کی بالیاں بنانے پھر اسے زعفران یا عبیر سے پیلا کرنے سے کون سی چیز مانع ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5145]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں سونے کے دو کنگن استعمال کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو کنگن ہیں۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سونے کا ہار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے گلے میں آگ کا ہار ہو گا۔“ وہ کہنے لگی: سونے کی بالیاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالیاں بھی آگ کی ہیں۔“ راوی نے کہا: اس عورت نے سونے کے دو کڑے پہن رکھے تھے، اس نے وہ اتار کر پھینک دیے۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر عورت اپنے خاوند کے لیے زیب و زینت نہ کرے تو وہ اس کے نزدیک کم مرتبہ ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی چیز مانع ہے کہ وہ چاندی کی دو بالیاں بنا لے، پھر اسے زعفران یا عبیر سے رنگ لے۔“ یہ الفاظ (استاد احمد) ابن حرب کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14934)، مسند احمد (2/440) (ضعیف) (اس کے راوی ابو زید صاحب ابی ہریرہ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو زيد مجهول (تقريب: 8111) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
حدیث نمبر: 5146
أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهَا مَسَكَتَيْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا؟ لَوْ نَزَعْتِ هَذَا وَجَعَلْتِ مَسَكَتَيْنِ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ صَفَّرْتِهِمَا بِزَعْفَرَانٍ كَانَتَا حَسَنَتَيْنِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی پازیب پہنے دیکھا، تو فرمایا: ”میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں، تم اسے اتار دو اور چاندی کی پازیب بنا لو، پھر انہیں زعفران سے رنگ کر پیلا کر لو، یہ بہتر ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث محفوظ نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5146]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے اس سے اچھی چیز نہ بتاؤں کہ تو انہیں اتار دے اور چاندی کے دو کنگن بنا لے، پھر ان کو زعفران کے ساتھ سنہری بنا لے۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: یہ (حدیث اس سیاق سے) غیر محفوظ ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16575) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362