🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ: حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى قَتَادَةَ
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5189
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ الْحَجَّاجِ هُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5189]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 45 (5864)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2089)، (تحفة الأشراف: 12214)، مسند احمد (2/468)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5275 و5276 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5190
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ أَنَّهُ حَدَّثَنَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ".
عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور ہرے یا لال برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5190]
حضرت حفص لیثی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمران (بن حصین) رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے، سونے کی انگوٹھی استعمال کرنے اور سبز مٹکوں کا نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 13 (1738)، (تحفة الأشراف: 10818)، مسند احمد (4/428، 443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5191
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نجران سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا، آپ نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: تم میرے پاس اپنے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ لے کر آئے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5191]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ نجران کے علاقے سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: تو میرے پاس اس حالت میں آیا ہے کہ تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4042 ألف)، مسند احمد (3/14)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5192
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِخْصَرَةٌ , أَوْ جَرِيدَةٌ , فَضَرَبَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَلَا تَطْرَحُ هَذَا الَّذِي فِي إِصْبَعِكَ؟" فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ، فَرَمَى بِهِ , فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ؟" قَالَ: رَمَيْتُ بِهِ، قَالَ:" مَا بِهَذَا أَمَرْتُكَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَبِيعَهُ، فَتَسْتَعِينَ بِثَمَنِهِ". وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی یا ٹہنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کی انگلی پر مارا۔ اس شخص نے کہا: کیا وجہ ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: کیا تم اسے نہیں پھینکو گے جو تمہارے ہاتھ میں ہے؟ چنانچہ اس شخص نے اسے نکال کر پھینک دیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: انگوٹھی کیا ہوئی؟ وہ بولا: میں نے اسے پھینک دی۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، میں نے تو تمہیں صرف اس بات کا حکم دیا تھا کہ اسے بیچ دو اور اس کی قیمت کو کام میں لاؤ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5192]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا جبکہ اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی یا شاخ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھڑی اس کی انگلی پر ماری تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ انگوٹھی پھینک نہیں دیتا جو تیری انگلی میں ہے؟ اس آدمی نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اسے دیکھا تو پوچھا: انگوٹھی کدھر ہے؟ اس نے کہا: وہ تو میں نے پھینک دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ نہیں کہا تھا بلکہ میرا مقصد تو یہ تھا کہ تو اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے فائدہ اٹھا لے۔ اور یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1927) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، رجل (من قومه): مجهول. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5193
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ فِي يَدِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْرَعُهُ بِقَضِيبٍ مَعَهُ، فَلَمَّا غَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْقَاهُ، قَالَ:" مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ". خَالَفَهُ يُونُسُ رَوَاهُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ مُرْسَلًا ,
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ایک چھڑی سے جو آپ کے پاس تھی اس پر مارنے لگے، جب آپ کی توجہ ہٹ گئی تو انہوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی، آپ نے فرمایا: ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے تمہیں تکلیف دی اور تمہارا نقصان کیا۔ یونس نے نعمان بن راشد کے خلاف اسے زہری سے انہوں نے ابوادریس سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5193]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ اسے اپنی چھڑی سے مارنے لگے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ کسی اور طرف ہوئی تو اس (ابوثعلبہ) نے اسے اتار پھینکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا خیال ہے کہ ہم نے تجھے (چھڑی مار کر) تکلیف دی اور تیرا نقصان بھی کیا۔ یونس نے اس (نعمان بن راشد) کی مخالفت کی ہے، اس نے یہ روایت عن الزہری عن ابی ادریس (کی سند) سے مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11870، 19338)، مسند احمد (4/195)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5194-5197) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، نعمان بن راشد: تكلموا فى روايته عن الزهري فحديثه شاذ،وفيه علة أخري. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5194
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , أَنَّ رَجُلًا مِمَّنْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتِمًا مِنْ ذَهَبٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَحَدِيثُ يُونُسَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ النُّعْمَانِ.
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانے والے لوگوں میں سے ایک شخص نے سونے کی انگوٹھی پہنی … پھر آگے اسی طرح بیان کیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یونس کی روایت نعمان کی روایت کی نسبت سے زیادہ قرین صواب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5194]
حضرت ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہے، نے سونے کی انگوٹھی پہنی۔ (پھر راوی نے) سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: یونس کی حدیث نعمان کی حدیث سے زیادہ درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5195
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ قِرَاءَةً , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِذٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ نَحْوَهُ.
ابوادریس خولانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا پھر آگے اسی طرح بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5195]
حضرت ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا، (پھر راوی نے) حسبِ سابق پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند مرسل ہے، اس لیے کہ عائذ بن عبداللہ ابو ادریس الخولانی نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5196
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمَ ذَهَبٍ، فَضَرَبَ إِصْبَعَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ مَعَهُ حَتَّى رَمَى بِهِ"،
ابوادریس خولانی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی دیکھی تو آپ نے اس کی انگلی کو ایک لکڑی سے مارا جو آپ کے پاس تھی، یہاں تک کہ اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5196]
حضرت ابو ادریس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی اس کی انگلی پر ماری حتیٰ کہ اس نے انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند بھی مرسل ہے، اس لیے کہ عائذ بن عبداللہ ابو ادریس خولانی نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5197
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَرْكَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُرْسَلٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَالْمَرَاسِيلُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ , وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے، اسی طرح مرسلاً روایت ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مرسل روایتیں زیادہ قرین صواب ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5197]
حضرت ابن شہاب رحمہ اللہ نے یہ روایت مرسلاً بیان کی ہے (صحابی کا واسطہ ذکر نہیں کیا)۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: مرسل روایتیں زیادہ ٹھیک اور درست ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند بھی ضعیف ہے، اس لیے کہ ابن شہاب زہری نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، لیکن دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں