سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن ابی اسحاق کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5395
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ , فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَفَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ مُجْزِئًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے، اور وہ اس قدر بوڑھے ہو گئے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ اس سے مر نہ جائیں، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ نے فرمایا: اگر ان پر کچھ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ کافی ہوتا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے باپ کی طرف سے حج کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5395]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے باپ پر حج اس حال میں فرض ہوا ہے کہ وہ انتہائی بوڑھے ہیں، سواری پر نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں انہیں پالان پر باندھ دوں تو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مر جائیں گے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بتا اگر اس کے ذمے قرض ہوتا اور تو ادا کر دیتا تو کیا اسے کفایت ہو جاتا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے باپ کی طرف سے حج کر۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2635 (شاذ) (اس واقعہ میں سائل کا مرد ہونا شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ مضطرب والمحفوظ أن السائل امرأة والمسؤول عنه أبوها
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، إِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بڑی بوڑھی عورت ہیں، اگر میں انہیں سوار کر دوں تو وہ اسے پکڑ نہیں سکیں گی اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ میرے اس عمل سے مر نہ جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے یا نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی طرف سے حج کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5396]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے کہ ایک آدمی نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ بہت بوڑھی ہیں۔ اگر میں انہیں سواری پر سوار کر دوں تو بھی وہ نہیں بیٹھ سکیں گی اور اگر میں انہیں (پالان پر) باندھ دوں تو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مر جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بتا اگر تیری والدہ کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنی ماں کی طرف سے حج بھی کر۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2644 (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ خلافة كما ذكرت في الذي قبله
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5397
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُهُ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَإِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ.
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، حج نہیں کر سکتے، اگر میں انہیں سوار کر دوں، تو اسے پکڑ کر بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان کا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5397]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج کی طاقت نہیں رکھتے، اگر میں انہیں اٹھا کر سواری پر لاد بھی دوں، تب بھی وہ بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے والد کی طرف سے حج کر۔“ ابو عبد الرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: سلیمان (ابن یسار) نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2644 (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5398
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ , أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد کافی بوڑھے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کافی ہوتا یا نہیں؟“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5398]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرا باپ بہت بوڑھا ہے، کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تو بتا اگر اس کے ذمے قرض ہوتا اور تو اسے ادا کر دیتا، اسے کفایت نہ کرتا؟“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5389) (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح